سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 141
141 ہستی کا ثبوت ہے اور اس بات سے ہمارے یقین زندہ رہتے ہیں اور ایمان تازہ ہوتے ہیں کہ جو چیزیں دنیا کی نظر میں ناممکن ہیں وہ اللہ تعالیٰ نے جماعت میں ممکن کر دکھائی ہیں۔تو وہ لکھتے ہیں کہ جو چیزیں ایک بیرونی نظر سے دیکھی جائیں لَا يَنْحَلُ دکھائی دیتی ہیں ان کا حل جماعت احمدیہ کے نزدیک یہی ہے کہ خدا ایک زندہ ہستی ہے جس کا جماعت سے تعلق ہے اور وہ جماعت کے لئے ناممکن کاموں کو ممکن بناتا چلا جاتا ہے۔میں ان کے اس مطالعہ سے بڑا متاثر ہوا کیونکہ میں نے کبھی کسی مستشرق کو بیرونی جائزہ کے سوا گہرائی میں اترتے نہیں دیکھا۔بڑے بڑے عالموں کی کتابیں میں نے پڑھی ہیں لیکن ان کے تمام مطالعے سرسری ہوتے ہیں اور جلد سے نیچے نہیں اترتے۔اس مصنف نے حیرت انگیز زکاوت کا ثبوت دیا ہے اور معلوم ہوتا ہے ان کے اندر کوئی روحانیت کا مادہ ہے جس کی وجہ سے ان کو خدا تعالیٰ نے اندر اترنے کی بصیرت عطا فرمائی۔بالعموم نظام جماعت کا ان کا مطالعہ درست اور قابل اعتماد ہے اور اس پہلو سے یہ کتاب نہ صرف پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے بلکہ غیر از جماعت دوستوں اور غیر مسلموں کو بھی جماعت کا تعارف کروانے کے لئے ایک بہت اچھی کتاب ہے۔جہاں تک عقائد کی تفاصیل کا تعلق ہے، جہاں تک اختلافات کا تعلق ہے بہت معمولی بعض جگہیں ایسی ہیں جہاں انسان چاہتا ہے، دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اگر یہ اس بارے میں نسبتاً زیادہ تفصیل۔گفتگو کر لیتے تو شاید یہ ایک آدھ ستم بھی نہ باقی رہتا لیکن یہ چیزیں تو ہر مصنف کی کتاب میں خواہ وہ کیسا ہی گہرا محقق کیوں نہ ہو پائی جاتی ہے لیکن ان کی کتاب میں سب سے کم پائی جاتی ہیں۔اس ذکر کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ جماعت احمدیہ کے ذیلی نظام پر غور کرتے ہوئے میں نے اس ضرورت کو محسوس کیا کہ اس کے روابط میں کچھ تبدیلی پیدا کی جائے اور اس تبدیلی کا رجحان اسی طرف ہے جو میں نے بیان کیا اور جو اس مصنف نے بھی محسوس کیا کہ ہر نظام کے ہر شعبے کا ایک براہ راست واسطہ خلیفہ وقت کے ساتھ پایا جاتا ہے جو کام کے پھیلنے کے باوجو د درمیان میں منقطع نہیں ہوتا اور کسی اور تعلق کا محتاج نہیں رہتا۔چنانچہ انہوں نے ایک مثال یہ لکھی کہ جن دنوں میں میں انگلستان آیا ہوا تھا۔نیو یارک سے غالباً ایک انجینئر پہنچے ہوئے تھے وہ ایک احمدیہ مسجد کا تفصیلی نقشہ اور اس کی ساری پلان اور مستقبل کے متعلق کیا کیا وہاں ہوگا وہ سب چیزیں لے کر آئے تھے اور انہوں نے ان کو بتایا کہ جب تک ہم خلیفہ وقت کو دکھا کر اس سے تمام تفاصیل منظور نہ کروالیں اور مزید ہدایت نہ حاصل کرلیں ہمیں تسلی نہیں ہو سکتی۔اس لئے ہم مجبور ہیں۔چنانچہ وہ کہتے ہیں دنیا بھر میں اتنے کام اس طرح ہو رہے ہیں تفصیل کے ساتھ اور یہ سارے ایک ذات میں اکٹھے کیسے ہو سکتے ہیں۔چنانچہ اس ضمن میں انہوں نے بات چھیڑی۔