سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 140
140 آئندہ ہر ملک کی ذیلی تنظیموں کے صدران براہ راست خلیفہ وقت کو جوابدہ ہوں گے (خطبہ جمعہ 3 نومبر 1989ء) "وقت کے ساتھ ساتھ جماعت احمدیہ کی ذمہ داریاں بھی بڑھتی چلی جارہی ہیں اور جہاں تک نظام خلافت کا تعلق ہے بظاہر بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کے نتیجے میں اس کو براہ راست پھیلتے ہوئے کاموں سے واسطہ نہیں رہنا چاہئے اور سلسلہ وار بیچ میں دوسرے واسطوں کو پیدا ہونا چاہئے کیونکہ یہی دنیا کا نظام ہے اور اسی طرح دنیا کے نظام بڑھتے اور پھیلتے ہیں لیکن جماعت احمدیہ میں یہ صورت نہیں ہے۔خلافت کے ساتھ نظام کے ہر جز و، ہر شعبہ کا ایک ایسا گہرا براہ راست تعلق ہے کہ یہ تعلق محض نظام جماعت کے شعبوں ہی سے نہیں ان سے پار اتر کر ہر فرد بشر سے بھی جہاں تک ممکن ہے یہ تعلق قائم ہوتا چلا جاتا ہے اور یہ تعلق کے دائرے پھیلتے چلے جاتے ہیں۔بظاہر یہ بات نا ممکن دکھائی دیتی ہے اور دنیا کے دانشور جنہوں نے غور اور قریب سے جماعت احمدیہ کا مطالعہ کیا ہے وہ یہی نتیجہ نکالتے ہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ یہ ممکن ہوتا چلا جارہا ہے بلکہ اس کی ضرورت اور بھی زیادہ شدت سے محسوس ہورہی ہے۔خلافت اور جماعت احمد یہ ایک چیز کے دو نام ہیں ابھی حال ہی میں ایک ایسی کتاب کینیڈا سے شائع ہوئی ہے جس کا میں نے گزشتہ خطبہ میں بھی ذکر کیا تھا۔پروفیسر Nino Gultairy نے ایک کتاب لکھی ہے Conscience and Coercion اس میں جماعت احمدیہ کے نظام کا مطالعہ کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے وہ اپنی ذہانت کی وجہ سے بہت گہرائی میں اترے ہیں اور خصوصیت کے ساتھ خلافت کا جماعت کے ساتھ رابطہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ میرے لئے یہ ایک نا قابل یقین چیز تھی کہ مگر میں نے غور سے دیکھا تو یہ نا قابل یقین چیز واقعۂ موجود پائی۔وہ کہتے ہیں میرے لئے بہت مشکل ہے کہ میں صحیح معنوں میں بیان کرسکوں جو میں نے دیکھا ہے مگر خلاصہ یہ کہ سکتا ہوں کہ خلافت اور جماعت ایک ہی چیز کے دو نام ہیں اور دونوں اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ باہم پیوست ہیں کہ ایک کو دوسرے سے الگ شخصیت کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔اپنے محبت کے تعلق میں، اپنے نظام کے تعلق میں اپنے مسائل کے تعلق میں ایک ہی وجود بن گیا ہے اور اس ضمن میں وہ ایک بہت ہی دلچسپ بات یہ لکھتے ہیں کہ میں نے جب خلافت کے کاموں پر غور کیا تو مجھے یوں معلوم ہوتا تھا کہ یہ ناممکن چیز ہے یہ نہیں ہوسکتا۔لیکن جب میں نے قریب سے دیکھا اور ملاقاتیں کیں تو مجھے پتا لگا کہ واقعہ یہ ناممکن ممکن بنا ہوا ہے۔بہت سے احمدیوں سے میں نے سوال کیا کہ آخر یہ کیوں ہوا ہے تو انہوں نے کہا یہ معجزہ ہے اور خدا کی