سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 142
142 ذیلی تنظیموں میں ایک رخنہ واسطے کی کمی کا رخنہ ہے خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ کے نظام میں میں نے محسوس کیا ہے کہ ایک رخنہ پیدا ہوا ہے جو واسطے کی کمی کا رخنہ ہے اور وہ اس طرح کہ اب تک مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے دفاتر اور انصار اللہ مرکزیہ کے دفاتر اور لجنہ کے دفاتر ربوہ میں تھے اور یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ ان معنوں میں مرکز یہ ہیں کہ تمام دنیا کی مجالس کے اوپر وہ نظر رکھتے ہیں اور نظر رکھنی چاہئے ان کو اور ان کے مسائل سے واقف ہیں اور ان کی رہنمائی کر رہے ہیں۔میں نے چند سال پہلے یہ محسوس کیا کہ یہ بات درست نہیں ہے۔اور بھی بہت سے رخنے وقت کے ساتھ مطالعہ کے نتیجے میں میرے سامنے آنے شروع ہوئے۔اول یہ کہ دنیا کے اکثر ممالک کے حالات پیران ذیلی مجالس کے دفاتر کی نہ نظر ہے، نہ ہو سکتی ہے کیونکہ وہ بہت مختصر سا نظام رکھتے ہیں اور جو جماعتیں دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں ان کے مسائل کی تفاصیل ان کے حالات سے باخبری یہ ایک بہت ہی بڑا کام ہے جس کے لئے بہت گہرے روابط اور مسلسل روابط کی ضرورت ہے اور محض ایک رابطہ کی روکافی نہیں بلکہ مختلف رویں چلنی چاہئیں ہر طرف سے جو رابطے کو ایک مضبوط دھارے کی شکل میں تبدیل کر دیں۔خدام الاحمدیہ کے مرکز میں اگر صرف خدام الاحمدیہ کے بعض شعبوں کی طرف سے یا بعض مجالس کی طرف سے اطلاعیں آتی رہیں تو ان کو کچھ پتا نہیں کہ لجنہ میں وہاں کیا ہو رہا ہے۔وہاں انصار اللہ میں کیا ہو رہا ہے۔وہاں جماعت کے عمومی رجحانات کیا ہیں اور وہ اس بار یک دھارے سے حاصل ہونے والی معلومات کے نتیجے میں ایک نتیجہ اخذ کرتے اور اس کے اوپر بعض احکامات جاری کرتے تو اس کے نتیجے میں بہت سی خرابیاں پیدا ہوسکتی تھیں جو خرابی دکھائی دی وہ ایک معنی میں خوبی بن گئی۔چونکہ روابط کم تھے اس لئے غلط فیصلے بھی کم ہوئے اور بہت کم ایسے مواقع پیش آئے کہ مجالس مرکز یہ نے مختلف ممالک کے بارے میں اپنی ذیلی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے ایسے فیصلے کئے جو بعد میں مشکلات کا موجب بن سکتے۔یعنی اول تو فیصلے ہی بہت کم ہوئے مگر جو فیصلے ہوئے ان میں ایسی مثالیں شاذ شاز پیش آتی رہیں۔بیرون پاکستان تنظیمیں تحریک جدید کو مشیر سمجھیں اس کا نتیجہ یہ نکلاکہ تحریک جدید نے خلافت کے سامنے اپیل کی کہ مجلس خدام الاحمد یہ یا مجلس انصاراللہ یا مجلس لجنہ اماءاللہ یہ اپنی ذات میں ایسے فیصلے کر لیتے ہیں ان کو حالات کا پتا ہی کچھ نہیں اور وہ جماعت کے لئے مضر اور نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔چنانچہ ایک اور راستہ بیچ میں قائم کر دیا گیا یعنی مجالس کے صدران تو وہی رہے لیکن وہ رفتہ رفتہ اس بات کے پابند کر دئے گئے کہ تحریک جدید کو اپنا مشیر سمجھیں اور اس کے نتیجے میں