سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 132 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 132

132 اٹھانے کے قابل ہیں اس لئے میں نے پاکستان کا نام نہیں لیا تھا اس تحریک میں۔ایک ہمارے معزز بزرگ ہیں جنہوں نے مجھے توجہ دلائی کہ آپ نے افریقہ اور ہندوستان کے نام تو لے لئے لیکن پاکستان کا نام بھول گئے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے ان کی توجہ دلانے سے خیال آیا۔ہو سکتا ہے اور دلوں میں بھی یہ خیال پیدا ہو۔نعوذ بالله کی ناراضگی کے نتیجے میں نہیں بلکہ خوش اعتقادی کے نتیجے میں یہ بات ہوئی ہے مجھے پورا یقین ہے پورا اعتماد ہے کہ پاکستان کی جماعتیں اللہ کے فضل سے خود کفیل ہیں نہ صرف خود کفیل ہیں بلکہ جب تک حکومت کے قوانین اجازت دیتے تھے وہ دنیا کی جماعتوں کے بوجھ بھی اٹھائے ہوئے تھی۔اس لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ اپنے بوجھ خود نہ اٹھا سکیں۔تو جہاں تک پاکستان کی جماعتوں کا تعلق ہے وہ اللہ کے فضل کے ساتھ اپنی ساری ضرورتیں خود پوری کرتی رہیں گی اور ان ضرورتوں کو وہ خاص طور پر پیش نظر رکھیں گی۔قرآن کریم کے تلفظ کی درستگی کے بارے ہدایات قرآن کریم کے متعلق ایک دفعہ پھر میں بتاؤں کہ نماز اس طرح سکھانی شروع کرنی ہے کہ پہلے نماز کے کچھ لوازمات بتائے جائیں اور نماز کا مختصر تعارف کروایا جائے۔پھر اس کے بعد کہا جائے کہ اب تیار ہو نماز یاد کرنے کے لئے اور پھر نماز کی ایک ایک سطر یا ایک ایک آیت جو بھی صورت ہو وہ آہستگی سے پڑھ کر سنائی جائے۔جو غلطیاں عموماً ان علاقوں میں تلفظ کی پائی جاتی ہیں ان کی طرف ساتھ ہی توجہ بھی دلائی جائے اور متنبہ کیا جائے کہ بعض لوگ " و " کو "ب " پر جاتے ہیں اور "ب" کو " و" بڑھ جاتے ہیں۔اسی طرح دوشس میں فرق نہیں کر سکتے اور بھی بہت سے علاقائی تلفظ کے رجحانات ہیں جو روز مرہ قرآن کریم کی تلاوت میں دقتیں پیدا کر دیتے ہیں۔تو جس علاقے میں جو تلفظ کی غلطیاں پائی جائیں بتایا جائے کہ ہم نے یہ پڑھایا تھا۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، سم اللہ نہیں ہے یا بشم اللہ نہیں ہے۔آپ غور سے سنیں اس کو اس طرح ادا کرنا ہے اور جہاں ٹھہرنا ہے وہاں ٹھہر کے بتایا جائے کہ یہاں ٹھہرنا ہے۔جہاں نہیں ٹھہر نا وہاں یہ بتایا جائے کہ یہاں نہیں ٹھہرنا اور رفتہ رفتہ آہستگی کے ساتھ خوب اچھی طرح تلفظ سمجھاتے ہوئے ایک دفعہ نماز کے ایک حصے سے گزار دیا جائے پھر کہا جائے کہ اب ہم آہستہ آہستہ اس کی رفتار کو کچھ تیز کریں گے آپ ہمارے ساتھ شامل ہوں۔پھر رفتہ رفتہ اس کی رفتار تیز کر کے ان کو بتایا جائے۔پھر کچھ دیر کے بعد کہا جائے کہ اب ہم اچھی تلاوت کی آواز کے ساتھ اسی چیز کو دوبارہ پڑھ کے سناتے ہیں۔آپ میں اگر کوئی ترنم کا جذ بہ ہے، ترنم کا شوق ہے تو آپ اس آواز کی نقل کی کوشش کریں یا اسی طرز پر پھر اپنی آواز میں جو آپ کو پسند ہے وہ ترنم کے ساتھ نماز کی تلاوت کر کے دیکھیں کم سے کم قرآن کریم کے حصے کی۔بلکہ اسی کی ہونی چاہئے باقی کی تو ترنم کی ضرورت نہیں ہے۔تو یہ سکھایا جائے۔