سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 133
133 یہ پروگرام صبر آزما ہے محنت طلب ہے ، وقت چاہتا ہے پھر اس کے بعد نماز کے ترجمے کی طرف متوجہ ہوں۔آہستہ آہستہ اسی طریق پر ترجمہ سکھائیں ، آخر تک پہنچیں، کچھ حکمتیں بیان کریں اور یہ جو کورس ہے یہ کم سے کم دس پندرہ دن تک جاری رہنا چاہئے۔یہ ایسا کورس نہیں ہے جو ایک دن میں ختم ہو سکے یا چند دنوں میں بھی ختم ہو سکے۔میرا اندازہ ہے کہ اگر اس طریق پر اچھی طرح سمجھا کر پیار کے ساتھ پیسٹس تیار کی جائیں اور روزانہ آدھ گھنٹہ کوئی شخص متوجہ ہو یا وقت دے سکے تو غالباً پندرہ دن کے اندر ہم یہ پہلی منزل طے کر سکتے ہیں۔پھر دوسرے حصے میں قرآن کریم کی بعض چھوٹی سورتیں اختیار کر کے ان کو اسی طریق پر آہستگی سے سمجھا سمجھا کر صحیح تلفظ کے ساتھ یاد کروائی جائیں وہ سورتیں اور پھر ان کا ترجمہ پڑھا جائے۔ترنم کے ساتھ کسی اچھے قاری سے اس کی تلاوت کروائی جائے اور سمجھایا جائے کہ جب بھی آپ کوئی آیت پڑھتے ہیں تو ہمیشہ مضمون پر نگاہ رکھا کریں کیونکہ ایسے قاری جو مضمون کو بھلا کر قراءت کرتے ہیں ان کی قراءت عموماً مصنوعی سی ایک مشینی آواز کی طرح محسوس ہوتی ہے لیکن جو آیات کے مضمون میں دل ڈالتے ہیں ان کی تلاوت دل سے نکلتی شروع ہو جاتی ہے کیونکہ دل آیات کے مضمون میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے اور اس سے پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہ صرف یہ کہ ان کو نئے نئے مطالب نصیب ہوتے رہتے ہیں بلکہ سننے والے بھی اس لذت کو محسوس کرتے ہیں جو دل کی تلاوت میں پائی جاتی ہے دوسری تلاوت میں آنہیں سکتی۔تو اس مضمون پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے احباب جماعت کی ، بچوں کی ، بڑوں کی تربیت کرنی چاہئے لیکن یہ خیال نہ کریں کہ آپ کے بڑوں کو سب کچھ آتا ہے اس لئے بچوں کی کلاسیں لگائیں گے۔میرا یہ تجربہ ہے کہ ہماری بعض بڑی نسلیں بھی ان چیزوں سے ناواقف ہیں اور جب ہم بچوں کی طرف توجہ کرتے ہیں تو بڑے خالی رہ جاتے ہیں۔پھر بعض دفعہ بڑوں کی طرف توجہ کرتے ہیں تو مسجد میں چونکہ اکثر مرد آتے ہیں عورتیں محروم رہ جاتی ہیں اس لئے یہ پروگرام ایسے ہونے چاہئیں جس میں جماعت کا کوئی طبقہ بھی محروم نہیں رہنا چاہئے اور عورتوں کو خصوصیت سے یہ باتیں یاد کرانی اس لئے ضروری ہیں کہ اگر ان کو یاد ہو جائیں تو پھر اگلی نسلوں کی تربیت وہ خود سنبھال سکتی ہیں۔بچیوں کو اگر یہ چیزیں یاد ہو جائیں تو آئندہ کی نسل کی حفاظت ہو جائے گی۔تو یہ پروگرام صبر آزما ہے، محنت طلب ہے ، وقت چاہتا ہے لیکن اتنا ضروری ہے کہ اس کو ہر پروگرام پر اب اولیت دینی چاہئے۔تمام دنیا میں، دنیا کی تمام ایسی زبانوں میں جہاں احمدی موجود ہیں۔اس قسم کی تربیت کی لیسٹس تیار ہوں، مقامی لوگوں کی اچھی آواز میں کوئی تلاوتیں سنائی جائیں اور قرآن کریم کی چیدہ چیدہ آیات اور بعض چھوٹی سورتیں حفظ کروائی جائیں اور پھر ان کے مطالب ساتھ بیان کئے جائیں۔یہ پروگرام جب آگے بڑھے اور یہ حصہ آپ طے کر چکیں پھر اس طرف متوجہ ہوں یا بعض صورتوں میں بیک وقت