سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 131
131 اور تربیت کے لئے جو بھی ضرورتیں ہیں وہ انشاء اللہ پوری کریں گے لیکن آڈیو کی ضرورت اس لئے زیادہ ہے کہ اکثریت ان علاقوں کی پڑھنا بھی نہیں جانتی اور معلمین بھجوا کر ان کی تربیت کرنا بہت مشکل ہے۔اس لئے جماعتی نظام کے تابع ہر احمدی جماعت کے لئے بالآخر ایک ایسا کیسٹس ریکارڈر مہیا ہو جانا چاہئے جو مضبوط ہو۔دیہاتی علاقوں میں چونکہ اس کا استعمال بعض دفعہ نازک نہیں ہوتا بلکہ بختی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔استعمال میں ملائمت نہیں ہوتی بلکہ سختی پائی جاتی ہے۔اس لئے نازک مشینیں ٹوٹ جاتی ہیں اور بڑی جلدی ضائع ہو جاتی ہیں۔اس لئے تحریک جدید کے اس شعبہ کو جس نے یہ کام کرنا ہے یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ دیہات کی مناسبت سے وہ آلات چنیں جائیں اور ٹھوس آلات ہوں، بڑی آواز والے ہوں تاکہ دیہاتی تربیت کے لئے ایک مسجد میں بچوں کو اور بڑوں کو اکٹھا کر کے ان کی تربیت کے پروگرام بنائے جائیں اور ان سے وہ سب مستفید ہوں۔اگر بیک وقت سارے علاقوں میں ہر گاؤں میں ایسی چیزیں مہیا نہ ہو سکتی ہوں جو آہستہ آہستہ ہو جائیں گی انشاء اللہ پھر علاقوں کو چھوٹے چھوٹے حلقوں میں تقسیم کر لیا جائے اور ایک حلقے میں دو تین چار پانچ گاؤں رکھے جاسکتے ہیں اور اس میں ایسا پروگرام رکھا جا سکتا ہے کہ باری باری یہی مشین اپنی لیسٹس کے ساتھ گھومنا شروع کرے۔جب ایک پروگرام پہلے دے دیا اور پھر اگلے پروگرام کو شروع کرنے سے پہلے وہی پہلا پروگرام دوسرے راؤنڈ میں شروع کرا دیا۔چکر لگا کے واپس پہنچے تو پہلا پروگرام پھر سنایا اور اس کی یاد دہانی کے طور پر اسے پھر دوبارہ سنایا اور اگلے پروگرام کا پہلا سبق دے دیا۔چھوٹے چھوٹے پروگرام بنا کر ان کو عام کریں اس ضمن میں ایک بہت اہم بات بتانے والی یہ ہے کہ اتنا Ambitious پروگرام ، اتنا وسیع ولولے والا پروگرام پہلے نہ بنا لیں کہ وہ ہضم نہ ہو سکے لوگوں کو۔چھوٹے پروگرام پہلے بنائیں اور ان کو عام کر دیں۔اس کے بعد آرام سے بیٹھ کر پھر دوسرا پروگرام سوچیں اور پھر اس کو لیسٹس میں بھر کر پھر مہیا کرنا شروع کریں۔ایک نماز سے شروع کریں تو پھر نماز کے بعد اگلے قدم بھی اٹھا ئیں۔نماز کے علاوہ روز مرہ کے مسائل جو ایک مسلمان کو معلوم ہونے چاہئیں ان پر تربیتی پروگرام ریکارڈ کئے جائیں۔پھر حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حالات ، آپ کے صحابہ کے حالات پر سادہ چھوٹی چھوٹی باتیں جو ہر عشق کا دعوی کرنے والے کو ضرور معلوم ہونی چاہئیں وہ بیان کی جائیں اور اس طرح یہ جو سال کا بقیہ حصہ ہے اس میں کم سے کم اتنے پروگرام ہمارے تیار ہو جائیں کہ ہم پھر اطمینان سے کہہ سکیں کہ اگلی صدی میں ہم ایک تربیت کا نہایت عمدہ اور قابل عمل پروگرام لے کر داخل ہوئے ہیں۔امید ہے اس سلسلے میں جماعتیں جا کر اپنے فرائض کی طرف متوجہ ہوں گی۔جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے پاکستان کی جماعتیں چونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے خود اپنے بوجھ