سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 130
130 نصیحت کی ہے کہ کیسٹس سے ہم استفادہ کر سکتے ہیں اوراس کمی کو دور کر سکتے ہیں۔کیسٹس کے ذریعہ تعلیمی وتربیتی پروگرام جاری کریں اس ضمن میں میں اب اس خطبہ کے ذریعے ساری دنیا کی جماعتوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ کیسٹس میں تربیتی پروگرام اورتعلیمی پروگرام اس طرح بھریں جیسے ایک بالکل چھوٹے بچے اور ان پڑھ کو کوئی چیز کھائی جا رہی ہے اور یہ نہ سوچیں کہ ایک ٹیسٹس میں آپ تیزی سے کوئی مضمون بھر دیں اور توقع رکھیں کے لوگ بار بار سنیں گے بلکہ تھوڑی بات پھیلا کر کریں اور بار بار کریں۔یہاں تک کی ایک کیسٹ اگر پوری جماعت کو نہیں سنبھال سکتی تو نہ ہی دو ٹیسٹس لگالیں تین لگا لیں لیکن جو شخص بھی ٹیسٹس سننا شروع کرے ساتھ ساتھ اس کو بات یاد ہوتی چلی جائے۔اس کا مضمون ذہن نشین اور دل نشین ہوتا چلا جائے۔اس مقصد سے تمام دنیا میں خصوصاً دیہاتی علاقوں میں ٹھوس تربیت کے پروگرام مرتب ہونے چاہئیں اور افریقہ میں ہر زبان میں جو افریقہ میں بولی جاتی ہے اسی طریق سے پیسٹس تیار کئے جائیں یعنی جیسا کہ آپ دیکھ چکے ہیں اس کثرت سے اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے افریقہ میں احمدیت کی طرف رجحان ہوا ہے کہ خوشی اور تشکر کے جذبات کے ساتھ اسی قدر فکر کے جذبات نے بھی دل کو گھیر لیا ہے ان لوگوں کی تربیت ہم کیسے کریں گے۔تو میں سمجھتا ہوں کہ چونکہ یہ نئے زمانے کی ایجادات اسلام کی خدمت کے لئے ہی دراصل انسان کو عطا ہوئی ہیں اس لئے ان سے پورا استفادہ کرنا چاہئے۔گزشتہ چند سالوں سے ہم نے افریقہ میں ہر قسم کے جدید آلات جماعتوں کو مہیا کرنے شروع کئے ہوئے ہیں اور ٹیسٹس کے علاوہ ویڈیوز بھی اور آڈیو ویڈیو کے دوسرے جو بھی نئے ذرائع انسان کو عطا ہوئے ہیں ان سے جماعت کو بھی مستفید کرنے کے لئے پروگرام بھی ہیں اور ساتھ ساتھ جس حد تک توفیق مل رہی ہے وہ آلات مہیا بھی کئے جارہے ہیں۔تو جہاں تک آڈیو ویڈیو کا تعلق ہے، ویڈیو کے ذریعے پیغام دکھانے کا افریقہ اور بعض دوسرے غریب ممالک میں وہ شاذ کے طور پر استعمال تو ہو سکتے ہیں۔چند مجالس میں تو استعمال ہو سکتے ہیں روز مرہ کی زندگی میں وہ کارآمد نہیں ہو سکتے۔روز مرہ کی زندگی کے لئے آڈیو ٹیسٹس وہ جن کا صرف سننے سے تعلق ہے تصویر میں ساتھ نہیں ہوتیں بالکل ہلکے چھوٹے چھوٹے ٹیسٹس ریکار ڈرنکل آئے ہیں جو ایک فیملی کی ضرورت کو تو بہت عمدگی سے پورا کر سکتے ہیں لیکن بعض غریب ممالک ایسے ہیں جہاں یہ بھی پوری طرح موجود نہیں اور بڑے بڑے علاقے ہیں جہاں بہت کم آڈیو ٹیسٹس لوگوں کے پاس موجود ہیں۔اس لئے جہاں تک ان غریب ممالک کا تعلق ہے انشاء اللہ تعالیٰ اس نئی تحریک کے نتیجے میں جو میں نے آپ کے سامنے رکھی تھی افریقہ اور ہندوستان کے غریب علاقوں کے لئے ہم ٹیسٹس پر بھی خرچ کریں گے