سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 129
129 سورۃ فاتحہ یا اور قرآن کریم کے مضامین اور مطالب سے دعائیں لے کر نماز میں داخل فرما ئیں یا جو تسبیح تحمید ہمیں نماز میں پڑھنے کی ہدایت فرمائی یہ سارے امور محبت الہی پر مبنی تھے اور محبت الہی کے مختلف پہلوؤں کی طرف متوجہ کرنے والے تھے۔اس لئے محبت اگر ایک شخص کی انفرادی ہو اور وہ صاحب عرفان نہ ہوتو وہ محبت اس کو بہت زیادہ بلند مقام تک نہیں پہنچا سکتی۔محبت کی بھی تو بے شمار منازل ہیں۔محبت بھی تو ایک لامتنا ہی چیز ہے۔کیسے محبت کرنی ہے یہ ضمون ہے جس کو اگر آپ پیش نظر رکھیں تو قرآن کریم سے صاف پتا چلتا ہے کہ ویسے محبت کرنی ہے جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی۔قُل اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُخبكُمُ الله ( آل عمران : 32) اے محبت کے دعویدارو ! اگر تم خدا سے محبت کرنا چاہتے ہو فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله میری طرح کرو جس طرح میں کرتا ہوں تب خدا تم سے محبت کرے گا۔یعنی محبت کا جو آخری پھل ہے وہ تمہیں مل جائے گا۔خالی ایک طرف کی محبت کے کیا معنی ہیں۔اگر جس سے محبت ہے وہ منہ موڑے رکھے اور اس کا وصل نصیب نہ ہو تو یک طرفہ محبت تو صحرا میں آواز میں دینے کے مترادف ہے۔اس لئے قرآن کریم کی آیت اتنی کامل ایسی حسین ہے کہ بارہا میں نے اس کا ذکر کیا ہے مگر میں تھکتا نہیں۔کیسا عمدہ کلام ہے فرمایا اے خدا کی محبت کے دعویدارو! اگر تم محبت کرنا چاہتے ہوئے تو اے محمد ! ان سے کہہ دے کہ میری طرح کرو اور اس کا کیا نتیجہ ہوگا خدا تم سے محبت کرے گا۔کتنا عظیم الشان پھل ہے لیکن اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح محبت نہیں کریں گے تو کچھ نہ کچھ تو خدا کا پیارمل سکتا ہے لیکن اس آیت کا کوئی مومن مصداق نہیں بن سکتا۔اس لئے نمازوں کے اوپر مزید گہری توجہ کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ہر احمدی بچے ، بڑے کو سو فیصدی نماز کا ترجمہ آنا چاہئے ، اس کے آداب آنے چاہئیں ، نماز کے سلسلے میں جولوازمات ہیں وہ معلوم ہونے چاہئیں اور متعلقہ مسائل معلوم ہونے چاہئیں۔اس سلسلے میں ہمارے پاس جو کمی ہے وہ اساتذہ کی ہے۔وقف جدید کے معلمین بھی اسی خاطر دیہات میں پھیلائے گئے تھے کہ وہ جا کر اس تربیت کی کمی کو دور کریں گے لیکن ایک تو مشکل یہ ہے کہ خود وقف جدید کے جو معلمین تھے ان کا اپنا معیار اتنا بلند نہیں تھا اور دوسرا یہ کہ وہ بہت ہی تھوڑے ہیں جماعت کی تعداد کے مقابل پر۔جماعت کی تعدا د تو اب کثرت سے پھیلتی ہی چلی جارہی ہے اور وقف جدید کے معلمین تو پہلے بھی پورے نہیں آسکتے تھے ایک پاکستان میں ہی آپ دیکھ لیں ہزاروں جماعتوں میں ایک سو سے کم معلمین کس طرح اپنے فرائض ادا کر سکتے ہیں اور ضرورتوں کو پورا کر سکتے ہیں اور دنیا کے اکثر حصوں میں وقف جدید ہے بھی نہیں۔ایسے معلم کہاں سے آئیں گے۔اس کا ایک حل میرے ذہن میں آیا جس کے متعلق میں نے اپنے مرکز سے آنے والے ناظم وغیرہ کو