سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 112 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 112

112 عرصے تک آپ کو اُس کو قرآن کریم پڑھانا ہی ہوگا لیکن ساتھ ساتھ یہ ترجمہ سکھانے اور مطالب کی طرف متوجہ کرنے کا پروگرام بھی جاری رہنا چاہئے۔نماز کی پابندی اور نماز کے جو لوازمات ہیں اُن کے متعلق بچپن سے تعلیم دینا اور سکھانا یہ بھی جامعہ میں آکر سیکھنے والی باتیں نہیں اُس سے بہت پہلے گھروں میں اپنے ماں باپ کی تربیت کے نیچے یہ باتیں بچوں کو آ جانی چاہئیں۔جماعتی اخبار اور رسائل کا مطالعہ کریں اس کے علاوہ تعلیم میں وسعت پیدا کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور دینی تعلیم میں وسعت کا ایک طریق یہ ہے کہ مرکزی اخبار اور رسائل کا مطالعہ رہے۔بدقسمتی سے اس وقت بعض ممالک ایسے ہیں جہاں مقامی اخبار نہیں ہیں اور بعض زبانیں ایسی ہیں جن میں مقامی اخبار نہیں ہیں لیکن ابھی ہمارے پاس وقت ہے اور گزشتہ چند سالوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتوں میں اپنے اپنے اخبار جاری کرنے کے رجحان بڑھ چکے ہیں۔تو ساری جماعت کی انتظامیہ کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ جب آئندہ دو تین سال میں یہ بچے سمجھنے کے لائق ہو جائیں یا چار پانچ سال تک سمجھ لیں تو اُس وقت واقفین نو کے لئے بعض مستقل پروگرام، بغض مستقل فیچرز آپ کے رسالوں اور اخباروں میں شائع ہوتے رہنے چاہئیں کہ وقف نو کیا ہے، ہم ان سے کیا توقع رکھتے ہیں؟ اور بجائے اس کے کہ اکٹھا ایک دفعہ پروگرام ایسا دے دیا جائے جو کچھ عرصے کے بعد بھول جائے۔یہ اخبارات چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تربیتی پروگرام پیش کیا کریں اور جب ایک حصہ رائج ہو جائے تو پھر دوسرے کی طرف متوجہ ہوں پھر تیسرے کی طرف متوجہ ہوں۔واقفین بچوں کی علم کی بنیاد وسیع ہونی چاہئے۔عام طور پر دینی علماء میں یہی کمزوری دکھائی دیتی ہے کہ دین کے علم کے لحاظ سے تو اُن کا علم کافی وسیع اور گہرا بھی ہوتا ہے لیکن دین کے دائرے سے باہر دیگر دنیا کے دائروں میں وہ بالکل لاعلم ہوتے ہیں اور اس نے اسلام کو بہت شدید نقصان پہنچایا ہے۔وہ وجوہات جو مذاہب کے زوال کا موجب بنتی ہیں اُن میں یہ ایک بہت ہی اہم وجہ ہے۔اس لئے جماعت احمدیہ کو اس سے سبق سیکھنا چاہئے اور وسیع علم کی بنیاد پر قائم دینی علم کو فروغ دینا چاہئے۔یعنی پہلے بنیاد عام دنیا وی علم کی وسیع ہو اُس پر پھر دینی علم کا پیوند لگے تو بہت ہی خوبصورت اور بابرکت ایک شجر طیبہ پیدا ہو سکتا ہے۔اس لحاظ سے بچپن ہی سے ان واقفین بچوں کو عام جنرل نالج بڑھانے کی طرف متوجہ کرنا چاہئے یعنی آپ متوجہ خود ہوں تو ان کا علم آپ ہی آپ بڑھے گا یعنی ماں باپ متوجہ ہوں اور بچوں کے لئے ایسے رسائل ، ایسے اخبارات لگوایا کریں، ایسی کتابیں ان کو پڑھنے کی عادت ڈالیں جس کے نتیجے میں ان کا علم وسیع ہو اور جب وہ سکول میں جائیں تو ایسے مضامین کا انتخاب ہو جس سے سائنس کے متعلق بھی کچھ واقفیت ہو ، عام دنیا کے جو آرٹس کے مضامین ہیں لیکن سیکولر مضامین مثلاً معیشت