سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 111
111 یہ چھوٹی سی بات ہے بظاہر اور اس پر میں نے اتنا وقت لیا ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ انسانی زندگی میں خصوصاًوہ زندگی جو تکلیفوں سے تعلق رکھتی ہو، جو ذمہ داریوں سے تعلق رکھتی ہو، جہاں کئی قسم کے اعصابی تناؤ ہوں وہاں مزاح بعض دفعہ بہت ہی اہم کردار ادا کرتا ہے اور انسانی ذہن اور انسانی نفسیات کی حفاظت کرتا ہے۔غناء کے نتیجے میں غریب سے شفقت پیدا ہوتی ہے غناء کے متعلق میں پہلے بیان کر چکا ہوں، قناعت کے بعد پھر غناء کا مقام آتا ہے اور غنا کے نتیجے میں جہاں ایک طرف امیر سے حسد پیدا نہیں ہوتا وہاں غریب سے شفقت ضرور پیدا ہوتی ہے۔غناء کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ غریب کی ضرورت سے انسان غنی ہو جائے۔اپنی ضرورت سے غنی ہوتا ہے غیر کی ضرورت کی خاطر۔یہ اسلامی غنا میں ایک خاص پہلو ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔اس لئے واقفین بچے ایسے ہونے چاہئیں جو غریب کی تکلیف سے غنی نہ بنیں لیکن امیر کی امارت سے غنی ہو جا ئیں اور کسی کو اچھا دیکھ کر اُن کو تکلیف نہ پہنچے لیکن کسی کو تکلیف میں دیکھ کر وہ ضرور تکلیف محسوس کریں۔تلاوت سے بچوں کے دلوں میں محبت الہی کے جذبات اٹھنے چاہئیں جہاں تک اُن کی تعلیم کا تعلق ہے جامعہ کی تعلیم کا زمانہ تو بعد میں آئے گالیکن ابتداء ہی سے ایسے بچوں کو قرآن کریم کی تعلیم کی طرف سنجیدگی سے متوجہ کرنا چاہئے اور اس سلسلے میں یقینا انشاء اللہ نظام جماعت ضرور پروگرام بنائے گا۔ایسی صورت میں والدین نظام جماعت سے رابطہ رکھیں اور جب بچے اس عمر میں پہنچیں جہاں وہ قرآن کریم اور دینی باتیں پڑھنے کے لائق ہوسکیں تو اپنے علاقے کے نظام سے یا براہ راست مرکز کو لکھ کر اُن سے معلوم کریں کہ اب ہم کس طرح ان کو اعلی درجہ کی قرآن خوانی سکھا سکتے ہیں اور پھر قرآن کے مطالب سکھا سکتے ہیں کیونکہ قاری دو قسم کے ہوا کرتے ہیں ایک تو وہ جو اچھی تلاوت کرتے ہیں اور آواز میں اُن کی ایک کشش پائی جاتی ہے اور تجوید کے لحاظ سے وہ درست ادائیگی کرتے ہیں لیکن اُس سے جان نہیں پڑا کرتی۔ایسے قاری اگر قرآن کریم کے معنی نہ جانتے ہوں تو وہ تلاوت کے بت تو بنا دیتے ہیں ، تلاوت کے زندہ پیکر نہیں بنا سکتے۔وہ قاری جو تلاوت کرتے ہیں سمجھ کر اور اُس تلاوت کے اُس مضمون کے نتیجے میں اُن کے دل پگھل رہے ہوتے ہیں ، اُن کے دل میں خدا کی محبت کے جذبات اُٹھ رہے ہوتے ہیں اُن کی تلاوت میں ایک زائد بات پیدا ہو جاتی ہے جو اصل ہے زائد نہیں۔وہ روح ہے اصل تلاوت کی۔تو ایسے گھروں میں جہاں واقفین زندگی ہیں وہاں تلاوت کے اس پہلو پر بہت زور دینا چاہئے۔خواہ تھوڑا پڑھایا جائے لیکن ترجمہ کے ساتھ مطالب کے بیان کے ساتھ پڑھایا جائے اور یہ عادت ڈالی جائے بچے کو کہ جو کچھ بھی وہ تلاوت کرتا ہے وہ سمجھ کر کرتا ہے۔ایک تو روز مرہ کی صبح کی تلاوت ہے اُس میں تو ہو سکتا ہے کہ بغیر سمجھ کے بھی ایک لمبے