سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 113
113 ہے، اقتصادیات، فلسفہ، نفسیات اور حساب ، تجارت وغیرہ ایسے جتنے بھی متفرق امور ہیں ان سب میں سے کچھ نہ کچھ علم بچے کو ضرور ہونا چاہئے۔علاوہ ازیں پڑھنے کی عادت ڈالنی چاہئے کیونکہ سکولوں میں تو اتنا زیادہ انسان کے پاس اختیار نہیں ہوا کرتا یعنی پانچ مضمون، چھ مضمون ، سات مضمون رکھ لے گا بچہ، بعض یہاں دس بھی کر لیتے ہیں لیکن اس سے زیادہ نہیں جاسکتے۔اس لئے ضروری ہے کہ ایسے بچوں کو اپنے تدریسی مطالعہ کے علاوہ مطالعہ کی عادت ڈالنی چاہئے۔اب یہ چیزیں ایسی ہیں جو ہمارے واقفین زندگی بچوں کے والدین میں سے اکثر کے بس کی نہیں یعنی اُن کو تو میں نصیحت کر رہا ہوں لیکن میں جانتا ہوں کہ بہت سے ایسے ہیں بیچارے افریقہ میں بھی ، ایشیا میں، یورپ، امریکہ میں جن کے اندر یہ استطاعت نہیں ہے کہ اس پروگرام کو وہ واقعہ عملی طور پر اپنے بچوں میں رائج کر سکیں اس لئے یہ جتنی باتیں ہیں یہ متعلقہ شعبوں کو تحریک جدید کے متعلقہ شعبہ کو نوٹ کرنی چاہئیں اور اس خطبے میں جو زکات ہیں اُن کو آئندہ جماعت تک اس رنگ میں پہنچانے کا انتظام کرنا چاہئے کہ والدین کی اپنی کم علمی بھی اور اپنی استطاعت کی کمی بچوں کی اعلی تعلیم کی راہ میں روک نہ بن سکے۔چنانچہ بعض جگہوں پر ایسے بچوں کی تربیت کا انتظام شروع ہی سے جماعت کو کرنا پڑے گا۔بچوں کی تربیت کے لئے ذیلی تنظیموں سے استفادہ کریں بعض جگہ ذیلی تنظیموں سے استفادے کئے جاسکتے ہیں مگر یہ بعد کی باتیں ہیں اس وقت تو ذہن میں جو چند باتیں آرہی ہیں وہ میں آپ کو سمجھا رہاہوں کہ ہمیں کس قسم کے واقفین بچے چاہئیں۔ایسے واقفین بچے چاہئیں جن کو شروع ہی سے اپنے غصے کو ضبط کرنے کی عادت ہونی چاہئے ، جن کو اپنے سے کم علم کو حقارت کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہئے، جن کو یہ حوصلہ ہو کہ وہ مخالفانہ بات سنیں اور حمل کا ثبوت دیں۔جب اُن سے کوئی بات پوچھی جائے تو تحمل کا ایک یہ بھی تقاضا ہے کہ ایک دم منہ سے کوئی بات نہ نکالیں بلکہ کچھ غور کر کے جواب دیں۔یہ ساری ایسی باتیں ہیں جو بچپن ہی سے طبیعتوں میں اور عادتوں میں رائج کرنی پڑتی ہیں اگر بچپن سے یہ عادتیں پختہ نہ ہوں تو بڑے ہو کر بعض دفعہ ایک انسان علم کے بہت بلند معیار تک پہننے کے باوجود بھی ان عام سادہ سادہ باتوں سے محروم رہ جاتا ہے۔عام طور پر دیکھا گیا ہے جب کسی سے کوئی سوال کیا جاتا ہے تو فوراً جواب دیتا ہے۔خواہ اس بات کا پتا ہو یا نہ ہو پھر بعض دفعہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ایک بات پوچھی اور جس شخص سے پوچھی گئی ہے اُس کے علم میں یہ تو ہے کہ یہ بات ہونے والی تھی لیکن یہ علم میں نہیں ہے کہ ہو چکی ہے اور بسا اوقات وہ کہہ دیتا ہے کہ ہاں ہو چکی ہے اور واقفین زندگی کے اندر یہ چیز بہت بڑی خرابی پیدا کرسکتی ہے۔میں نے اپنے انتظامی تجربہ میں بارہا دیکھا ہے کہ اس قسم کی خبروں سے بعض دفعہ بہت سخت نقصان پہنچ جاتا ہے مثلا لنگر خانہ میں میں ناظم ہوتا تھا تو فون پر پوچھا کہ اتنے ہزار روٹی پک چکی ہے۔کہ جی ہاں پک چکی ہے۔تسلی ہوگئی۔جب پہنچا وہاں تو پتا لگا اس سے کئی ہزار پیچھے ہے میں نے کہا آپ نے یہ کیا ظلم کیا ہے، یہ جھوٹ