سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 106
106 $ 1989 واقفین نو کی تعلیم و تربیت کے لئے ذیلی تنظیموں سے استفادے کئے جاسکتے ہیں خطبہ جمعہ 10 فروری 1989ء) آئندہ صدی کی تیاری کے سلسلے میں ایک بہت ہی اہم تیاری کا تعلق واقفین نو سے ہے۔وقف نو کی جو میں نے تحریک کی تھی اس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بارہ سو سے زائد ایسے بچوں کے متعلق اطلاع مل چکی ہے جو وقف نو کی نیت کے ساتھ دعائیں مانگتے ہوئے خدا سے مانگے گئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اُن کی خیر وعافیت کے ساتھ ولادت کا سامان فرمایا۔یہ چھوٹے چھوٹے بچے آئندہ صدی کے واقفین نو کہلاتے ہیں۔اس کے علاوہ اور بھی بہت سے خطوط مسلسل ملتے چلے جارہے ہیں۔اس سلسلے میں دو طرح کی تیاریاں میرے پیش نظر ہیں مگر اس سے پہلے کہ میں تیاری کا ذکر کروں میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ وقف نو کے لئے جتنی تعداد کی توقع تھی اتنی تعداد بلکہ اس کا ایک حصہ بھی ابھی پورا نہیں ہو سکا اور جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے اس میں پیغام پہنچانے والوں کا قصور ہے۔بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں عامۃ الناس تک یہ پیغام پہنچایا ہی نہیں گیا اور جن دنوں یہ تحریک کی گئی تھی اُن دنوں کیسٹ کا نظام آج کی نسبت بہت کمزور حالت میں تھا اور افریقہ کے ممالک، ایسے دیگر ممالک جہاں اُردو زبان نہیں سمجھی جاتی اور بعض علاقوں میں انگریزی بھی نہیں سمجھی جاتی وہاں ترجمہ کر کے کیسٹس پھیلانے کا عملاً کوئی انتظام نہیں تھا۔اس وجہ سے وہ جو براہ راست پیغام کا اثر ہوسکتا ہے اُس سے بہت سے احمدی علاقے محروم رہ گئے۔بعد ازاں مؤثر رنگ میں اس تحریک کو پہنچانا یہ انتظامیہ کی ذمہ داری تھی مگر بعض جگہ ذمہ داری کو ادا کیا گیا اور بعض جگہ یا ادانہیں کیا گیا یا نیم دلی کے ساتھ ادا کیا گیا ہے۔پیغام پہنچا نا صرف کافی نہیں ہوا کرتا کس جذبے کے ساتھ پیغام پہنچایا جاتا ہے، کس محنت اور کوشش اور خلوص کے ساتھ پیغام پہنچایا جاتا ہے۔یہ پیغام کے قبول کرنے کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔مختلف دنیا میں پیغمبر آئے بنیادی طور پر ایک ہی پیغام تھا یعنی خدا کا پیغام بندوں کے نام لیکن جس شان کے ساتھ وہ پیغام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنچایا اس شان سے کوئی اور پہنچا نہیں سکا اور جس عظمت اور قدر اور قربانی کی روح کے ساتھ آپ کا پیغام قبول کیا گیا ویسے تاریخ انبیاء میں کسی اور کا پیغام قبول نہیں کیا گیا۔اس لئے پیغام پہنچانا کافی نہیں۔کس رنگ میں اور کس جذبے کے ساتھ ، کس خلوص کے ساتھ ، کس درجہ محبت اور پیار کے ساتھ دعائیں کرتے ہوئے پیغام پہنچایا جاتا ہے۔یہ وہ چیزیں ہیں جو پیغام کی قبولیت یا عدم قبولیت کا فیصلہ کیا کرتی ہیں۔اس لئے میری خواہش یہ تھی کم سے کم پانچ ہزار بچے اگلی صدی -