سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 107 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 107

107 کے واقفین نو کے طور پر ہم خدا کے حضور پیش کریں۔ابھی کافی سفر باقی ہے اس تعداد کو پورا کرنے میں اور دوست یہ لکھ رہے ہیں کہ جہاں تک اُن کا تاثر تھایا میں نے جو شروع میں خطبے میں بات کی تھی اس کا واقعہ یہی نتیجہ نکلتا ہوگا کہ جو اس صدی سے پہلے پہلے بچے پیدا ہو جائیں گے وہ وقف نو میں لئے جائیں گے اور اُس کے بعد یہ سلسلہ بند ہو جائے گا لیکن جس طرح بعض دوستوں کے خطوط سے پتا چل رہا ہے وہ خواہش رکھتے ہیں لیکن یہ سمجھ کر کہ اب وقت نہیں رہا وہ اس خواہش کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتے اُن کے لئے اور مزید تمام دنیا کی جماعتوں کے لئے جن تک ابھی یہ پیغام ہی نہیں پہنچا میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ وقف نو میں شمولیت کے لئے مزید دو سال کا عرصہ بڑھایا جاتا ہے اور یہ عرصہ فی الحال دو سال کا بڑھایا جا رہا ہے تا کہ اس پہلی تحریک میں شامل ہو جائے ورنہ یہ تحریک تو بار بار ہوتی ہی رہے گی لیکن وہ خصوصاً تاریخی تحریک جس میں اگلی صدی کے لئے ایک واقفین بچوں کی پہلی فوج تیار ہو رہی ہے اُس کا عرصہ آج تا دو سال تک بڑھایا جارہا ہے۔اس عرصے میں جماعتیں کوشش کر لیں اور جس حد تک بھی ممکن ہو یہ فوج پانچ ہزاری تو ضرور ہو جائے اس سے بڑھ جائے تو بہت ہی اچھا ہے۔واقفین نو بچوں کے والدین کی ذمہ داریاں بہت سے والدین مجھے لکھ رہے ہیں کہ ان کے متعلق اب ہم نے کرنا کیا ہے؟ جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا اس کے دو حصے ہیں اوّل جماعت کی انتظامیہ کو کیا کرنا ہے اور دوسرا بچوں کے والدین کو کیا کرنا ہے؟ جہاں تک انتظامیہ کا تعلق ہے اُس کے متعلق وقتاً فوقتاً میں ہدایات دیتارہا ہوں اور جو جو نئے خیال میرے دل میں آئیں یا بعض دوست مشورے کے طور پر لکھیں ان کو بھی اس منصوبے میں شامل کر لیا جاتا ہے لیکن جہاں تک والدین کا تعلق ہے آج میں اس ذمہ داری سے متعلق کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔خدا کے حضور بچے کو پیش کرنا ایک بہت ہی اہم واقعہ ہے کوئی معمولی بات نہیں ہے اور آپ یا درکھیں کہ وہ لوگ جو خلوص اور پیار کے ساتھ قربانیاں دیا کرتے ہیں وہ اپنے پیار کی نسبت سے اُن قربانیوں کو سجا کر پیش کیا کرتے ہیں۔قربانیاں اور تحفے دراصل ایک ہی ذیل میں آتے ہیں۔آپ بازار سے شاپنگ کرتے ہیں عام چیز جو گھر کے لئے لیتے ہیں اُس کو باقاعدہ خوبصورت کاغذوں میں لپیٹ کر اور فیتوں سے باندھ کر سجا کر آپ کو پیش نہیں کیا جاتا لیکن جب آپ یہ کہتے ہیں کہ یہ ہم نے تحفہ لینا ہے تو پھر دکاندار بڑے اہتمام سے اُس کو سجا کر پیش کرتا ہے۔پس قربانیاں تحفوں کا رنگ رکھتی ہیں اور اُن کے ساتھ سجاوٹ ضروری ہے۔آپ نے دیکھا ہوگا بعض لوگ تو مینڈھوں کو ، بکروں کو بھی خوب سجاتے ہیں اور بعض تو اُن کو زیور پہنا کر پھر قربان گاہوں کی طرف لے کر جاتے ہیں، پھولوں کے ہار پہناتے ہیں اور کئی قسم کی سجاوٹیں کرتے ہیں۔انسانی قربانی کی سجاوٹیں اور طرح کی ہیں۔انسانی زندگی کی سجاوٹ تقویٰ سے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے پیار اور اُس