سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 105
105 مطالبوں کی بجائے اپنے مذاق بلند کریں اس سلسلے میں میں نے کئی قسم کی بدیوں پر غور کیا مثلاً گانا بجانا اور اس قسم کی چیزیں ہیں آپ ساری دنیا میں یہ بات دیکھیں گے یہ صرف مشرق کی بات نہیں، پاکستان کی بات نہیں، ربوہ کی بات نہیں کہ رفتہ رفتہ مذاق بدل رہے ہیں اور مذاق زیادہ مادہ پرستی کی طرف مائل ہورہے ہیں۔ایک زمانہ تھا جبکہ ایک شاعر کا کلام ایک انسان کے دل میں وہ جذبات انگیخت کر دیا کرتا تھا جواب عام نغمے بھی نہیں کرتے بلکہ اس کے لئے پاپ میوزک کی ضرورت پیش آتی ہے۔مذاق بگڑے ہیں رفتہ رفتہ اور مادیت کی طرف زیادہ میلان ہوتا چلا گیا ہے۔مذاق اگر لطیف ہوں تو ایک اچھا کلام ، ایک اچھا ادب پارہ انسان کے دل میں اور دماغ میں ایسا تموج پیدا کر دیتا ہے کہ دنیا میں جو عام میوزک کے شیدائی ہیں، نغموں کے شیدائی ہیں وہ ان لذتوں کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔اس لئے مذاق کی صحت کی طرف اور درستی کی طرف توجہ بہت ضروری ہے۔اگر آپ جائزہ لیں گے پاکستان کا مثلاً خصوصیت سے تو آپ وہاں بھی یہ محسوس کریں گے کہ پرانی نسلوں کا ادبی معیار بلند تر تھا۔جو پہلے زمانے کے لوگ تھے یا بچے پڑھا کرتے تھے ان کے سکولوں میں بھی اور سکولوں سے باہر بھی ایک ادبی ذوق شوق کا ماحول تھا اور شعر و شاعری کا ماحول تھا۔وہ شعر و شاعری اس زمانے میں بعض نیک لوگوں کو بہت ہی بری لگا کرتی تھی۔وہ سمجھتے تھے پیڑ کے تباہ ہور ہے ہیں شعر و شاعری کی وجہ سے لیکن آج کے ماحول میں اگر دیکھیں تو وہ شعر و شاعری کے ماحول میں پلنے والے لوگ یہ پاپ میوزک کے شیدائیوں کو پاگل سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں یہ تباہ ہورہے ہیں۔تو یہ نسبتی چیزیں ہیں اور ان کے عوامل پر آپ غور کریں تو آخری تان اس بات پر ٹوٹے گی کہ معاشرے کا مذاق بعض مطالبے کرتا ہے۔اگر آپ نے مذاق کی اصلاح نہ کی اور مطالبوں کی راہ میں کھڑے ہو گئے تو آپ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔مذاق بلند کریں اور مذاق کے مطالبہ پورے کریں۔یہ دو چیز میں اکٹھی ہونا ضروری ہے۔" خطبات طاہر جلد 7 صفحہ 727-733)