سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 411
411 ہے۔ان سب کو عمومی طور پر میرا پیغام وہی ہے جو میں خطبے میں سب جماعت کو دے رہا ہوں اور اس خطبے میں بھی اسی سلسلے میں چند اور باتیں کروں گا۔جن آیات کی میں نے تلاوت کا ہے ان کو ترجمہ یہ ہے کہ اور اللہ کی عبادت کرو اور لَا تُشْرِكُوْابِه شَيْئًا اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہراؤ۔وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا اور والدین کے ساتھ احسان کا سلوک کرو۔و بِذِي الْقُرْبی اور اقرباء کے ساتھ بھی، اپنے رشتہ داروں کے ساتھ بھی اور یتیموں کے ساتھ بھی اور مسکینوں کے ساتھ بھی وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبى اور وہ پڑوی جو قرب میں رہتے ہوں۔اس کے مختلف معانی کئے گئے ہیں مگر ایک معنی یہ میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں وَالْجَارِ ذِي الْقُربى اور وہ پڑوسی جو قریب میں رہتے ہوں۔وَالْجَارِ الْجُنُبِ اور وہ پڑوسی جو پہلو میں رہتے ہیں مگر ویسے رشتہ دار نہیں وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ اور ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے لوگوں کے لئے وَابْنِ السَّبِیلِ اور رستہ چلتے یعنی مسافروں کے لئے وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ اور جن پر تمہارے ہاتھوں کو غلبہ عطا ہوا ہو۔ان سب سے حسن سلوک کرو إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْر یاد رکھو اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والے اور اترانے والے شخص کو پسند نہیں فرما تا۔اترانے والا اس کو کہتے ہیں جو چھوٹی سی بات پر اچھلنے لگ جائے اور فخر کے ساتھ دکھاوا کرنے لگے۔فرمایا فَخُورَ فخر کرنے والے اور اترانے والے شخص کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرما تا الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وہ لوگ جو بخل سے کام لیتے ہیں اور بخل ہی کا حکم بھی دیتے ہیں۔وَيَكْتُمُونَ مَا اشْهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِیہ اور جو خدا نے ان پر فضل فرمائے ہوئے ہیں وہ انہیں لوگوں سے چھپاتے ہیں تاکہ کہیں مانگ نہ بیٹھے۔بتاتے نہیں ہیں کہ انہیں خدا نے کیا کچھ عطا کیا ہوا ہے۔انکساری کی بناء پر نہیں بلکہ اس خوف کی وجہ سے نہیں بتاتے کہ لوگوں کو پتہ لگا کہ ہمارے پاس کیا کچھ ہے تو کہیں مانگ نہ بیٹھیں۔وَاعْتَدْنَا لِلْكَفِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا اور کافروں کے لئے ہم نے ایک ذلت والا عذات مقرر کر رکھا ہے یا تیار کر رکھا ہے۔یہ جو آیات ہیں ان کے مضمون پر میں احادیث کے حوالے سے روشنی ڈالوں گا۔عبادت خالصہ اللہ کے لئے ہو عمومی طور پر ان کا تعارف یہ کرواتا ہوں کہ اللہ کی عبادت جس میں شرک کا شائبہ بھی نہ ہو یہ بنیادی تعلیم ہے۔وہ عبادت جو خالصہ اللہ کے لئے ہو اور شرک سے کلیۂ پاک اور صاف ہو وہ انسانی تعلقات کو قائم