سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 399 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 399

399 جاتی ہے اور انسان ہزار کوشش کرتا ہے، لاکھ جتن کرتا ہے کہ کسی طرح کوئی ایسا حکیم، کوئی ایسا ڈاکٹر ، کوئی ایسا قابل طبیب میسر آ جائے جو ہماری انگلی کو کاٹنے سے بچالے۔پس یہ وہ کیفیات ہیں جو ہر انسان جانتا ہے، روز مرہ کے تجربے میں داخل ہے۔اور اس سے اچھی مثال مسلمانوں کو ایک دوسرے سے ہمدردی کی دی جاہی نہیں سکتی اس سے اچھی مثال کسی انسان کے تصور میں آہی نہیں سکتی۔زیادہ سے زیادہ لوگ مثالیں دیتے ہیں بچوں کے پیار کی یا دوسرے محبت کے رشتوں کی۔مگر امر واقعہ یہ ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی مناسب حال مثال مسلمانوں کی اجتماعی شکل کے اوپر چسپاں ہونے والی نہیں دی جاسکتی۔پاکستانی احمدیوں پر ظلم ہونے کی وجہ سے دنیا کی جماعتوں میں بے چینی پھیل جاتی ہے اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا جماعت احمد یہ عالمگیر پر ایک احسان ہے اور اس احسان میں وہ تمام دنیا کی دوسری جماعتوں سے ممتاز ہے اور وہ لوگ جو فراست رکھتے ہیں ان کے لئے حق کی پہچان کے لئے ایک بڑی دلیل ہے کہ اگر پاکستان میں کسی ایک جگہ بھی کسی احمدی پر ظلم ہوتا ہے تو تمام دنیا کی جماعتوں میں بے چینی پھیل جاتی ہے۔افریقہ کی ایسی دور دراز جماعتیں جہاں جدید ذرائع کی سہولتیں بھی نہیں پہنچیں۔نہ سڑکیں ہیں، نہ تار ہے، نہ ٹیلیفون ہے، نہ دیگر آرام ہیں۔جنگل کی بے آرامی میں وہ لوگ زندگی بسر کرتے ہیں مگر جب ان کو یہ اطلاع ملتی ہے کہ ہمارے بھائیوں میں سے کسی پر کسی ملک میں کہیں ظلم ہوا ہے تو شدید بے چین ہو جاتے ہیں اور پھر ان کی طرف سے مجھے خط آنے لگتے ہیں، مجھ سے ہمدردیاں کرتے ہیں، دعائیں دیتے ہیں۔کہتے ہیں اللہ کرے کہ جلد جماعت کے ان مظلوموں کی تکلیف دور ہو۔جب کسی تکلیف کے دور ہونے کی خبر ملتی ہے تو بجلی کی لہروں کی طرح خوشیوں کی ایک برقی روسی دوڑ جاتی ہے اور ہر طرف سے ایک مسرت کا احساس ہونے کی اطلاعیں بھی ملنے لگتی ہیں چنانچہ ہمارے اسیرانِ راہِ مولا جب آزاد ہوئے ہیں تو میں نے تو شروع میں اشارہ ہی ٹیلی ویژن پر اس کا اعلان کیا تھا مگر جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے فر است عطا فرمائی ہے وہ خاص انداز کو دیکھ کر سمجھ گئے کہ یہی خوشخبری ہو گی کہ جماعت احمدیہ کے پرانے اسیر آزاد ہوئے ہوں گے۔اس کا دکھ ان کو زیادہ تھا اور یہ ان کا دریافت کر لینا اس پہلی بات پر بھی روشنی ڈال رہا ہے کہ ان کی گہری محبت تھی ، گہرا تعلق تھا، اس غم میں مبتلا رہتے تھے۔جب دیکھا کہ میں نے کہا کہ ایک بہت بڑی خوشخبری میں جماعت کو دینے والا ہوں تو انہوں نے یقین کر لیا کہ یہ وہی خوشخبری ہوگی اور پھر اس پر ایسی مسرت کا اظہار کیا ہے کہ اپنے قریبیوں ، عزیزوں، رشتے داروں کی بعض خوشیوں پر بھی اس طرح عالم گیر مسرت کا اظہار نہیں ہوا، نہ ہو سکتا ہے بلکہ چھوٹے گاؤں میں بھی خوشیاں جب پہنچتی ہیں تو اس قدر مسرت نہیں ہوتی۔بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ ہم نے تو عیدیں منائی ہیں آپ تو کہتے تھے کہ عید کے بعد ایک عید بعد میں آئے گی دو مہینے دس دن کے بعد۔ہم نے تو یہ عید دیکھ لی اور عید پر عید یہ ہر روز عید بن چکی ہے۔ایسا نشہ ہے