سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 400 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 400

400 اس خوشی کا کہ بچے بڑے سب اس میں مگن ہیں۔ایک مستی کا عالم طاری ہے۔پس یہ ثبوت ہے کہ آج حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سچی غلام آپ کی طرف منسوب ہونے کا حق رکھنے والی جماعت اگر ہے تو وہ عالمگیر جماعت احمد یہ ہے کیونکہ یہ نشانی جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنے غلاموں کی اور سچے مومنوں کی بیان فرمائی ہے یہ آج جماعت احمدیہ کے سوا دنیا کی کسی اور جماعت پر اس طرح چسپاں نہیں ہوتی۔تمام مسلمانوں کی مثال ایک مومن کی ذات سے ہے بوسنیا کے مظلوموں کا جیسا م جماعت احمدیہ نے کیا ہے وہ یہ بتاتا ہے کہ یہ اندرونی تربیت اس پختگی کو پہنچ چکی ہے کہ جماعت کے دائرے سے چھلک کر عام مسلمانان عالم کی ہمدردی میں تبدیل ہو چکی ہے اور یہی وہ رخ ہے جس کی طرف جماعت کو میں بہت کوشش کے ساتھ دن بدن آگے بڑھا رہا ہوں تا کہ یہ چار مقاصد جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائے ہیں، یہ پورے ہوں تو ہم اس بات کے لئے پوری طرح مستعد اور تیار ہو جائیں گے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا فیض آج ہمارے ہاتھوں تمام دنیا میں بانٹا جائے اور تمام دنیا کو ہم ایک امتِ واحدہ میں تبدیل کر دیں، اور یہ ضروری تھا کہ ہم پہلے خود ایک ہو جاتے اور مبارک ہو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ آثار ظاہر ہو چکے ہیں کہ ہم ایک امت واحدہ بن چکے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ وہ گہری ہمدردی رکھتے ہیں جس کا ذکر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا۔ایک اور حدیث ہے جو بخارى كتاب المظالم باب لا يظلم المسلم المسلم - لی گئی ہے۔حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا۔مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔نہ تو وہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یارو مددگار چھوڑتا ہے۔یعنی اس کی مدد کے لئے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔جو شخص اپنے بھائی کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت کا خیال رکھتا ہے۔جو شخص کسی مسلمان کی تکلیف اور بے چینی کو دور کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف اور بے چینی کو دور کرتا ہے۔جو شخص کسی کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن پر وہ پوشی فرمائے گا۔یہ حدیث ترتیب میں پہلی حدیث کے بعد ہی آنی چاہئے تھی اور اس کا ایک طبعی نتیجہ ہے۔وہ شخص جو خود تکلیف میں مبتلا ہو وہ چین پاہی نہیں سکتا جب تک اس تکلیف کو دور نہ کرے۔اور کوئی شخص اپنے وجود کے کسی حصے پر خود ظلم نہیں کر سکتا۔اس کے لئے بہت مشکل ہے کہ بعض دفعہ ضرورت کے وقت بھی اپنے جسم کو تکلیف پہنچائے۔اگر کانٹا نکالنا ہو اور اس کے لئے سوئی چھوٹی پڑے تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں اور اکثر ہم میں سے جانتے ہیں کہ انسان کتنی کتنی احتیاطوں سے اس سوئی کی نوک کو زخم کے منہ میں داخل کرتا ہے تا کہ اس