سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 398 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 398

398 انگلیوں کی کنگھی بنائی اور اس طرح اس عمارت کی گرفت کے مضبوط ہونے کی طرف اشارہ فرمایا۔(یوں کنگھی بنائی اور مضبوط ہاتھوں سے یوں تھام کر بتایا کہ مومن اس طرح ایک دوسرے میں پیوستہ ہوتے ہیں اور اس طرح ان کے اندر باہمی طاقت پیدا ہوتی ہے )۔پس تمام کامیابیوں کی جڑ یہ اتحاد ہے جس کی طرف حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے زبان سے بھی نصیحت فرمائی اور ہاتھ کے اشارے سے بھی مضمون کو خوب کھول دیا۔(بخاری کتاب الصلوۃ باب تشبيك الاصابع في المسجد) ہر وہ مومن جو ایک دوسرے سے تعلقات میں ایسی مضبوطی رکھتا ہے جیسے ایک ہی انسان کے دو ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے مقاصد کی پیروی کرنے والا ہے۔جو ایسی طرز اختیار کرتا ہے کہ انگلیاں باہم پیوست ہونے کی بجائے ایک دوسرے کو کاٹنے لگیں اور ایک دوسرے کے مخالف ہو جائیں اس کا حقیقت میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے تعلق کاٹا جاتا ہے۔پس ہر وہ حرکت جو جماعت کی اجتماعیت کو طاقت بخشے، اجتماعیت کو مضبوط تر کرے، وہی حرکت ہے جو سنت نبوی کے تابع ہے۔ہر وہ حرکت خواہ وہ قول ہو یا فعل ہو اس مضمون کے مخالف ہو، وہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت کے مخالف بات ہے۔پس اب سے اس بات کو سننے کے بعد اپنی زبانوں پر بھی نگاہ رکھیں ، اپنے اعمال اور افعال پر بھی نگاہ رکھیں ، اپنے تعلقات کو اس حدیث کے تابع کر دیں تا کہ جماعت احمد یہ متحد ہو کر پھر تمام بنی نوع انسان کو ایک ہاتھ یعنی حمد مصطفیٰ کے ہاتھ پر اکٹھا کرنے کی سعی کر سکے۔ایک اور حدیث مسلم کتاب البر سے لی گئی ہے یہ حضرت نعمان بن بشیر کی روایت ہے، فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا۔مومنوں کی مثال ایک دوسرے سے محبت کرنے میں، ایک دوسرے پر رحم کرنے اور ایک دوسرے سے مہربانی سے پیش آنے میں ایک جسم کی سی ہے۔جس کا ایک حصہ اگر بیمار ہو تو اس کی وجہ سے سارا جسم بیداری اور بے چینی اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔(مسلم کتاب البر والصلة باب تراحم المومنين وتعاطفهم وتعاضدهم) بہت ہی پیاری مثال ہے اور ایک ایسی مثال ہے، جسے ہر انسان اپنی ذات کے حوالے سے بہترین رنگ میں سمجھ سکتا ہے۔ایک انسان کے پاؤں کی انگلی کے کنارے پر بھی درد ہو، ناخن کا آخری حصہ بھی بے چین ہو، تو سارا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ ایسے مریض میں نے دیکھے ہیں، جن کے پاؤں کی انگلی کے ایک کونے میں کوئی گہرا زخم ہے، وہاں ٹیں اٹھتی ہے، بعض دفعہ بغیر زخم کے بھی ٹیس اٹھتی ہے اور ساری رات وہ سو نہیں سکتے۔وہ بے قرار ہو کر آتے ہیں کہ اس بیماری نے ہمیں مصیبت میں ڈال رکھا ہے حالانکہ وہ پاؤں کی انگلی کا ایک کنارہ ہے۔اور اگر ایسا ناسور ہو جائے کہ اسے کاٹ پھینکنا پڑے تو ساری روح بے چین ہو