سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 248
248 اور ہم وہم بھی نہیں کر سکتے تھے کہ خدا کے حضور ان کا کتنا بڑا مرتبہ اور مقام ہے لیکن خدا نے ہمیں یہ سعادت عطا فرمائی تھی کہ ان پاک چہروں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے۔پس ان قبروں پر گزرتے ہوئے دعا ئیں بھی کرتا تھا اور اپنی سعادت پر خدا کا شکر بھی ادا کرتا تھا۔میں آپ کو بتاتا ہوں کہ یہ وہ صحابہ نہیں جن کا انصار کی جماعت میں قرآن کریم میں ذکر موجود ہے۔یہ وہ ہیں جنہوں نے آخرین کو اولین سے ملایا تھا اور خدا نے ان سے اپنے وعدے پورے کئے۔اتنی بڑی مخالفت کا طوفان تھا کہ آج پاکستان میں جو مخالفت ہو رہی ہے اُس مخالفت کے سامنے اس مخالفت کی کوئی بھی حیثیت نہیں۔ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں ملاں پھرے اور ہندوستان سے لے کر عرب ممالک کے آخر تک انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف عناد اور دشمنی کی ایک آگ لگا دی اور بڑے فخر سے یہ اعلان کئے کہ ہم نے تمام دنیا میں اس شخص کے خلاف ایسی نفرت پیدا کر دی ہے کہ ایک آگ بھڑک رہی ہے جو اس کو خاکستر کر کے رکھ دے گی۔تمام دنیا کے علماء نے اس کو دنیا کا بدترین انسان قرار دے دیا اور یہ فتویٰ دیا کہ اس کو مارنا، لوٹا قتل کرنا اس کی اولا دو جان ، عزت پر ہاتھ ڈالنا سب کچھ خدا کے نزدیک جائز ہے بلکہ باعث ثواب بن گیا ہے۔اس کو اور اس کے ماننے والوں کو جس کے بس میں آئے جس طرح لوٹے ، مارے، کوٹے ، جو چاہے اس کے ساتھ سلوک کرے۔یہ دین کا فتویٰ ہے کہ اگر کوئی ایسا کرے گا تو خدا کے حضور بڑی عزت پائے گا۔اس قسم کی آگ تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چاروں طرف بھڑ کائی گئی۔اس آگ کو گلزار بنانے والے وہ صحابہ تھے جگہ جگہ ابراہیمی طیور تھے جو پیدا کئے گئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ان کے ساتھ خدا نے اپنے سارے وعدے پورے کئے ورنہ آج آپ یہاں نہ ہوتے۔آج آپ ہندوستان میں بھی نہ ہوتے کہیں آپکا وجود ممکن نہیں تھا کیونکہ جس قسم کی مخالفت اور ملیا میٹ کر دینے والی نفرتیں پھیلا دی گئی تھیں وہ ایسی نفرتیں تھیں کہ یوں لگتا تھا کہ نظریں لوگوں کو کھا جائیں گی۔ان واقعات کو آپ پڑھیں جن مشکلات سے احمدی اس زمانہ میں گزرے ہیں تو آج بھی دل خون کے آنسو روتا ہے کہ کس طرح ان معصوموں کو کتنی بڑی بڑی تکلیفیں دی گئیں لیکن جب خدا نے فتح قریب فرمایا تو اس زمانہ کے لحاظ سے جو فتح ہوئی وہ بہت بڑی فتح تھی۔احمدیت کا ان خطروں سے بچ کر سلامت گزر جانا اور خزاں کے دور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کثرت سے اشجار طیبہ عطا ہونا یعنی ایسے درخت عطا ہونا جو پھولنے پھلنے والے ہوں اور جن کو دنیا میں کوئی کاٹ نہ سکے ، برباد نہ کر سکے ، کوئی ان کو بے ثمر نہ بنا سکے۔یہ نصرت کا وعدہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں پورا ہوا۔اب آپ کو نصرت کے دوسرے دور میں داخل کر دیا گیا ہے۔اس دوسری صدی نے نصرتوں کا اور فتوحات کا ایک نیا باب کھولا ہے اور اس صدی کے سر پر کھڑے ہونے والوں کی ایک مثال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صدی کے سر پر کھڑے ہونے والے بزرگ صحابہؓ سے ملتی ہے اور یہ دور کئی معنوں میں نئی برکتیں