سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 247
247 پس اس وجہ سے میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ یہ بات ایک معنوں میں ہمارے اختیار میں ہے۔بظاہر ہمارے اختیار میں کچھ بھی نہیں لیکن جن شرطوں کے ساتھ ہمیں خدا تعالیٰ نے دعوت الی اللہ کے لئے ہمیں بلایا ہے اُن شرطوں کو پورا کرنا فی الحقیقت ہر انسان کے اختیار میں ہے ان معنوں میں اختیار میں ہے کہ اگر وہ خدا سے نصرت طلب کرتے ہوئے یہ عہد کرے کہ اے خدا ! میں تیری راہ میں ناصر بننا چاہتا ہوں۔میں انصار اللہ میں شامل ہونا چاہتا ہوں تو پھر ضرور ہر انسان کے بس میں اور اختیار میں ہے کہ وہ خدا کے انصار میں ان معنوں میں شامل ہو جائے جن معنوں میں قرآن کریم نے یہ تفصیل بیان فرمائی ہے اور اگر ہو جائے تو پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری نصرت کو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے قریب کر دیا جائے گا تمہاری فتح کے دن قریب کر دیے جائیں گے اور تمہیں اتنے لمبے انتظار کی زحمت گوارا نہیں کرنی ہوگی۔پس جماعت احمدیہ کی ہر نسل جو گزر رہی ہے وہ ایک امکانی حالت سے گزر رہی ہے اور وہ امکانی حالت فتح کی طرف بلا رہی ہے۔اگر ساری جماعت وہ کوشش کرے جس کا اس سورۃ میں ذکر ہے تو لاز ما تمام دنیا کی فتح کا سہرا ایک نسل کے سر بھی لکھا جا سکتا ہے۔مسیح محمدی کے صحابہ کی کیفیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جن لوگوں نے نصرت کا وعدہ کیا وہ تعداد میں بہت تھوڑے تھے لیکن اس کثرت سے ان کو پھل لگے کہ دیکھتے ہی دیکھتے احمدیت کا پودا صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ ہندوستان سے باہر کے ممالک میں بھی نصب ہو چکا تھا اور صحابہ کی ایک بڑی جماعت پیدا ہوئی جس کی نسل میں سے اکثر احمدی آج دنیا میں موجود ہیں۔میں نے تبلیغ کے ذریعہ پھیلاؤ کا جو جائزہ لیا ہے میں آپ کو یقین سے بتا سکتا ہوں کہ جس کثرت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں تبلیغ ہوئی اور جس کثرت سے جماعتیں اس زمانہ میں پھیلی ہیں اس کا عشر عشیر بھی کبھی بعد میں نہیں ہوا۔تمام صحابہ ثمر دار شجر تھے وہ شجر طیبہ بن چکے تھے جن سے ہر حالت میں پھل کے وعدے کئے گئے ہیں جن کے متعلق قرآن کریم اعلان فرماتا ہے کہ وہ زمین میں مضبوطی کے ساتھ پیوستہ ہیں لیکن شاخیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور ہر موسم میں ان کو پھل لگتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کثرت سے ایسے صحابہ خطا ہوئے جو طیب درختوں کی صورت میں لہلہاتے رہے۔پھولتے پھلتے رہے اور ہر موسم میں ان کو پھل لگتے رہے۔اب جب میں قادیان گیا تو بہشتی مقبرہ میں گھوم پھر کے کتبات پڑھتا تھا ان میں سے بہت سے ایسے کتبات تھے جن سے مجھے یاد آجاتا تھا کہ ہاں میں نے بھی ان کو دیکھا ہوا ہے اس شکل وصورت کے تھے۔یہ وہ بزرگ صحابی تھے جو اس زمانے میں سادہ سے کپڑوں میں عام لباس میں غریبانہ چال کے ساتھ چلتے تھے