سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 87 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 87

87 ہر سطح پر جماعتی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالنے کے منصوبے بننے چاہئیں پس اس نقطہ نگاہ سے دنیا کی ہر جماعت میں با قاعدہ منصوبہ بننا چاہئے ملکی سطح پر بھی ، صوبائی سطح پر بھی اور جماعتی سطح پر بھی اور ایسے لوگ جن کی بہت سے صلاحیتیں ابھی Harness نہیں ہوئیں، ان کے اوپر ذمہ داریوں کے بوجھ نہیں ڈالے گئے ، ان کے متعلق منصوبے بنائے جائیں کہ کس طرح ان کو آہستہ آہستہ جماعت کے غیر معمولی فعال اور خدا کی رضا حاصل کرنے والے وجودوں میں تبدیل کرنا ہے۔میں امید رکھتا ہوں کہ اگر ہم ساری دنیا میں اس منصوبے پر عمل شروع کر دیں تو اس کے غیر معمولی فوائد فوری اگر نظر نہ بھی آئیں تو آئندہ چند سال میں ظاہر ہوں گے اور ہمارے جتنے بھی نیک منصوبے ہیں ان سب میں برکت پڑ جائے گی۔منصوبے اچھے جتنے چاہے ہوں اگر اچھے کارکن میسر نہ ہوں تو منصوبے بے معنی ہو جایا کرتے ہیں۔اچھے کارکن میسر ہوں مگر تعداد کافی نہ ہو اور منصوبہ زیادہ بوجھ اٹھانے والا ہوتو پھر بھی انسان بہت سی برکتوں سے محروم رہ جایا کرتا ہے۔تو جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہایت اعلیٰ منصوبوں کی کوئی کمی نہیں ہے، جماعت خود ایک نہایت اعلیٰ منصوبہ ہے لیکن کام کرنے والوں کی کمی ہے اور جتنا آپ نے ترقی کی ہے اتنا اس کمی کا احساس زیادہ پیدا ہوا ہے۔" خطبات طاہر جلد 6 صفحہ 540-549) دعوت الی اللہ سے متعلقہ ہر عہد یدار، جماعت کے افراد کو فَصُرُهُنَّ اليك کے مطابق اپنے ساتھ وابستہ کرے " (خطبہ جمعہ 28 اگست 1987ء) یورپ کے چند ممالک کے اس مختصر دورے میں میں نے خصوصیت سے اس بات پر نظر رکھی کہ جماعت کو جو بار با دعوت الی اللہ کی نصیحت کی جاتی رہی ہے اس کا کس حد تک عملاً اثر ظاہر ہوا ہے۔ہالینڈ میں بھی میں نے اسکا جائزہ لیا ، جرمنی میں بھی، ڈنمارک اور سویڈن میں بھی اور اب ناروے آکر بھی ، ملاقاتوں کے دوران بھی اور اس کے علاوہ جماعت سے گفت و شنید کے دوران میں نے اندازہ لگایا کہ ابھی جماعت کی بھاری اکثریت ایسی ہے جو عملاً دعوت الی اللہ کے کام میں مشغول نہیں ہوئی اور اگر یہ کہا جائے کہ پچانوے فیصد جماعت ابھی تک اس کام سے غافل پڑی ہے، عملاً اس کام میں سنجیدگی سے حصہ نہیں لے رہی تو اس میں مبالغہ نہیں ہو گا۔بعض ممالک میں ممکن ہے یہ نسبت اور بھی زیادہ خراب ہو مگر جن ممالک میں توجہ شروع