سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 88 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 88

88 ہو چکی ہے ان میں بھی بمشکل پانچ فیصد احمدی ایسا ہے جو فی الحقیقت دعوت الی اللہ کا حق ادا کر رہا ہے۔اس سلسلے میں کچھ تو میں براہ راست جماعت سے باتیں کرنی چاہتا ہوں اور کچھ امراء اور مربیان اور صدران جماعت اور دیگر عہدیداران کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔خلیفہ وقت کی طرف سے دی گئی ہدایات کو بھلانا نہیں چاہئے جب بھی ایک بات کی ہدایت کی جائے اور تکرار سے کی جائے تو اُسے بھلا دینا جائز نہیں ہے۔اس خیال سے کہ اب یہ بات پرانی ہو گئی اور اب ہماری جواب طلبی نہیں ہوگی یہ درست بات نہیں ہے۔جواب طلبی کا اسلامی نظام عام دنیاوی جواب طلبی کے نظام سے مختلف ہے۔دنیاوی جواب طلبی کے نظام میں تو بعض دفعہ کاغذات داخل دفتر ہو جاتے ہیں، بعض افسروں کو بات بھول جاتی ہے اور انسان ایک نافرمانی کے باوجود پکڑ سے بچ جاتا ہے لیکن اسلام میں جو جواب طلبی کا نظام ہے اس کی رُو سے تو ہر انسان پر فرشتوں کے پہرے بیٹھے ہوئے ہیں۔وہ صبح بھی اور شام بھی خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق انسان کے حالات کا جائزہ درج کرتے رہتے ہیں اور کوئی چیز بھی ان سے مخفی نہیں، کوئی چیز بھی ان کی نظر سے اوجھل نہیں اور کوئی ایسی بات بھی نہیں جس کی ان کو یاد دہانی کی ضرورت پڑے۔چنانچہ جو اہم امور خدا تعالیٰ نے بندے کو کرنے کے لئے کہے ہیں اُن کا ایک سوالنامہ بھی ساتھ ساتھ تیار ہوتا چلا جا رہا ہے مختلف حالات کے مطابق اور عملاً ہم جو اس کا جواب پیش کرتے ہیں وہ بھی تیار ہوتا چلا جاتا ہے۔پس کہنے والا دنیا میں بھول چکا ہو، سنے والا بھول چکا ہو مگر یہ جو خدا تعالیٰ کا آسمانی جواب طلبی کا نظام ہے یہ تو کسی چیز کو نہیں بھولتا اور چونکہ جماعت احمدیہ کا تعلق دنیاوی حکومت سے نہیں بلکہ آسمانی حکومت سے ہے اس لئے یہاں جزا سزا کا نظام بھی آسمانی ہے اگر تو دنیا میں سزا دینی ہوتی کوئی پھر تو جواب طلبی کرنے والے بھول جائیں تو پھر فرق پڑتا اور کئی لوگ سزا سے بچ جاتے۔اگر خدا تعالیٰ نے فیصلہ کرنا ہے جزا سزا کا تو پھر دنیا والے جواب طلبی کریں نہ کریں، بھول جائیں تب بھی نہ بھولیں تب بھی عملا کوئی بھی فرق نہیں پڑتا۔اس لئے ان امور کو جن کا دین سے تعلق ہو نسبتاً زیادہ سنجیدگی سے دیکھنا چاہئے اور زیادہ کوشش اور جد و جہد اور ذمہ داری کے ساتھ ان کی ادائیگی کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔یہ دعوت الی اللہ کا پروگرام کوئی معمولی پروگرام نہیں ہے۔ہم اگلی صدی کے کنارے پر بیٹھے ہیں اور ساری دنیا کو اسلام میں لانے کا تہیہ کر کے ایک سو سال سے جو کوشش کر رہے ہیں ابھی تک ایک سو سال میں کسی ایک ملک میں بھی واضح اکثریت تو در کنار نصف تک بھی ہم نہیں پہنچ سکے۔دسواں حصہ بھی ابھی تک ہمیں کامیابی نہیں ہوسکی کسی ملک میں۔تو ساری دنیا کو اسلام میں لانا یہ کوئی معمولی ذمہ داری نہیں ہے جو ہمارے کندھوں پر خدا تعالیٰ نے