سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 86 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 86

86 پریذیڈنٹ صاحبان پر یا دیگر عہدیدار خواہ وہ قائد کہلائیں یا زعیم کہلائیں ، جو نام بھی ان کا رکھیں۔طریقہ کار یہ ہونا چاہئے کے کچھ پیچھے ہٹنے والے یا کمزور رہنے والے آدمیوں پر تھوڑی تھوڑی ذمہ داریاں ڈالنی شروع کریں۔ان کو اپنے ساتھ ملائیں ، ان سے محبت اور پیار کا سلوک کریں ان پر اعتماد کریں۔ان سے کہیں یہ یہ کام جماعت کے ہونے والے ہیں چند ہی آدمی ہیں جن پر بار بار بوجھ ڈالے جاتے ہیں خطرہ ہے وہ تھک نہ جائیں ان کی طاقت سے بوجھ بڑھ نہ جائے اس لئے آپ تھوڑ اسا ان کو سہارا دیں۔چنانچہ بعض اچھے آدمیوں کے ساتھ بعض کمزور آدمی شامل کئے جائیں، نوجوانوں کو بھی پکڑا جائے اور کچھ نہ کچھ کام دیا جائے۔کام اگر دیا جائے اور کوئی کام کرلے تو کسی شخص کا یہ احساس کے میں نے ایک اچھا کام کیا ہے یہ ہی اس کی جزا ہوا کرتی ہے اور آئندہ کام کے لئے طلب دل میں پیدا ہو جاتی ہے۔ایک ایسا اہم نفسیاتی نقطہ ہے جس کو بھلا دینے کے نتیجے میں ہم بہت سے ایسے آدمیوں کو ضائع کر دیتے ہیں۔کسی آدمی کو پکڑیں اس سے کوئی اچھا سا کام لے لیں اور پھر دیکھیں کہ اس کے اندر کیسی بشاشت پیدا ہوتی ہے اور آئندہ اتنا کام نہیں بلکہ اس سے زیادہ کام کرنے کی صلاحیت اس میں پیدا ہو جاتی ہے۔اسی طرح رفتہ رفتہ ترقی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اور یہ کام ایسا نہیں ہے کہ ایک دو دن میں ہو۔بعض دفعہ مہینوں بعض دفعہ کئی سال چاہئیں لیکن ایسی جماعتیں جو اس طرح اپنے کمزوروں کو طاقتوروں میں تبدیل کرنے کا عزم رکھتی ہیں اور حکمت کے ساتھ منصوبہ بنا کر ان پر کام کرتی ہیں ان کی حالت دن بدن بدلتی چلی جاتی ہے۔اللہ کے فضل سے دنیا میں کئی ایسی بڑی بڑی جماعتیں ہیں جو بڑے بڑے صوبوں کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہوگئی ہیں، بڑے بڑے ملکوں کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہوگئی ہیں۔اور ایسی کثرت سے جماعتیں ہیں جو ا بھی بیدار نہیں ہوئیں پوری طرح۔پس اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا کہ مومنوں میں سے جو القعِدِينَ ہیں ، بیٹھ رہنے والے ان میں اور آگے بڑھنے والوں میں بہت فرق ہے، غیر معمولی فرق ہے۔تو اس میں ایک خاص نقطہ ہے جو ہمیں بیان فرمایا گیا ہے جو ہمیں نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔جتنا ان میں فرق ہے اتنا ہی ہم ان کے درجات سے محروم ہورہے ہیں۔معلوم یہ ہورہا ہے کہ ہم میں سے جو بہترین کام کرنے والے ہیں وہ نہ کام کرنے والوں سے اتنا آگے نکل چکے ہیں کہ اگر نہ کام کرنے والوں کے قدم ہم بڑھانے شروع کریں ان کو ساتھ ملانے کی کوشش کریں تو بہت سے درجات سے گزر کر ان کو وہاں تک پہنچنا ہو گا اور جتنے درجات سے وہ گزریں گے اتنا ہی جماعت کو فائدہ ہے۔ہر درجے پر وہ جماعت کے لئے کچھ حاصل کرنے والے ہوں گے، ان کی کوششیں ہر مقام پر جماعت کے لئے کوئی پھل پیدا کریں گی۔ترقی کی لامتناہی گنجائش موجود ہے یہ بتارہی ہے یہ آیت۔اپنے اولین کو دیکھو اور اپنے آخرین کو دیکھو تمہارے اندر پوشیدہ صلاحیتیں موجود ہیں۔