سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 79 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 79

79 سبیل الرشاد جلد دوم نہیں۔محض اللہ تعالیٰ اپنے فضل ہم پر نازل کر رہا ہے۔اور جب تک ہم اس مقام پر قائم رہیں وہ فضل نازل کرتا رہے گا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس جماعت کو ایک لمبے عرصہ تک اس کی توفیق دیتا چلا جائے گا کہ وہ بحیثیت جماعت اس مقام پر قائم رہے۔اس میں شک نہیں کہ درخت کی کچھ ٹہنیاں خشک ہو جاتی ہیں۔لیکن بحیثیت جماعت یہ درخت زندہ اور ہرا اور سرسبز رہے گا۔اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا اس طرح وارث ہوتا چلا جائے گا جس طرح آج وارث ہو رہا ہے۔تو یہ جماعت کا مقام ہے اور جماعت کے اس مقام کے نتیجہ میں جیسا کہ میں نے بتایا ہے جماعت پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ایک ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے سے انتہائی محبت اور پیار اور اخوت کا سلوک کریں کیونکہ کبھی آپ نے نہیں دیکھا کہ ایک ہاتھ چھری پکڑ کر دوسرے کو کاٹنے لگ گیا ہو۔کبھی آپ نے یہ نہیں دیکھا کہ درخت کی ایک ٹہنی دوسری ٹہنی کو کاٹنے لگ گئی ہو۔ہاں کسی درخت کی خشک ٹہنی میں کلہاڑا لگاتے ہیں تو وہ دوسری ٹہنی کو کاٹ دیتی ہے۔لیکن اس درخت کی اپنی کوئی سرسبز ٹہنی کسی دوسری ٹہنی کو کا ٹانہیں کرتی۔بلکہ وہ ٹہنیاں ایک دوسرے پر سایہ کرتی ہیں۔ایک دوسرے کے پتوں کو سورج کی تمازت سے بچانے کی کوشش کرتی ہیں۔بعض دفعہ ہواؤں کی تندی سے بچانے کی کوشش کرتی ہیں۔اگر چہ درخت میں عقل نہیں ہوتی مگر اللہ تعالیٰ کا جو فعل ہمیں درختوں کے معاملہ میں نظر آ رہا ہے۔اس سے ہم یہی نتیجہ نکالتے ہیں۔ہوائیں چلتی ہیں۔بہت سی ٹہنیاں دوسری ٹہنیوں کے لئے بطور ڈھال کے بن جاتی ہیں۔وہ خود ٹوٹ جاتی ہیں مگر دوسروں کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن جس درخت کی میں مثال دے رہا ہوں وہ اس قسم کی زندگی اور احساس اور شعور نہیں رکھتا جو ہم انسان رکھتے ہیں۔ہم جو شعور رکھنے والے انسان ہیں۔ہمیں کس طرح اور کتنی کوشش کے ساتھ ایک دوسرے سے اخوت کا اظہار کر کے اس کے دکھوں کو دور کرنے اور مصائب سے اُسے بچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس کی غم خواری کرنی چاہئے۔اس سے ہمدردی کرنی چاہئے۔اگر ترقی کی کوئی راہیں ایسی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان راہوں کے کھولنے کی توفیق دی ہو تو ہمیں بشاشت کے ساتھ ان راہوں کو کھول دینا چاہئے۔اور سب کو مل کر دنیا میں وسعت پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اور آسمان کی رفعتوں کے حصول کے لئے جد و جہد اور دعائیں کرنی چاہئیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس روحانی درخت کو دنیا میں اس لئے قائم کیا ہے کہ اس کی شاخیں آسمان کی بلندیوں تک پہنچ جائیں اور اپنی وسعت میں ساری دنیا کو گھیر لیں اور تمام بنی نوع انسان اس درخت کے سایہ تلے جمع ہو جائیں اور اپنے اللہ کو پہچانے لگیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے لگیں۔خدا کرے کہ ہماری زندگی محض اس کے فضل سے ہمیشہ قائم پر ہے۔