سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 80 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 80

سبیل الرشاد جلد دوم 80 اب ہم دعا کر لیتے ہیں۔سب دوست سب احمدی بھائیوں کے لئے دعا کیا کر یں خصوصاً ان بھائیوں کے لئے جن سے انہیں کوئی تکلیف پہنچی ہو۔جن سے انہیں کوئی رنجش پیدا ہوئی ہو۔پھر ان لوگوں کے لئے بھی دعائیں کریں جو دنیا میں بطور انسانیت کی طرف منسوب ہونے والے کے بس رہے ہیں۔پھر آج کل غلبہ اسلام کے لئے خاص طور پر دعائیں کرنی چاہئیں۔میں نے بتایا تھا کہ عیسائی عقائد دلوں سے باہر نکال کر پھینک دیئے گئے ہیں۔اور یہ ہماری کوشش کے نتیجہ میں نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو نازل کیا تھا۔اور انہوں نے عیسائی عقائد لوگوں کے دلوں سے نکال کر باہر پھینک دیئے۔اب وہ تختی خالی ہے۔خدا کرے کہ غیر اللہ کی بجائے اللہ تعالیٰ کا نام اس پر ثبت ہو جائے۔اللہ کے سوا اور کوئی معبود ان سینوں میں داخل نہ ہو۔اللہ تعالیٰ فضل کرے کہ ان کے سینے اپنے اللہ جو رب ہے ، رحمان ہے ، رحیم ہے، مالک یوم الدین ہے، اس کی محبت سے اور اس کے نور سے بھر جائیں اور وہ اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھنے لگیں اور اپنے اس مقصد کے مطابق خدا کے لئے اپنی زندگیوں کو گزار نے والے ہوں۔ہمارے بھائی ڈاکٹر عبدالسلام کے متعلق چند دنوں میں یہ فیصلہ ہونے والا ہے کہ انہیں ایک بہت بڑا اعزاز دیا جائے یا نہ دیا جائے۔دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس بھائی کو دنیوی نعمتوں سے بھی نوازتا رہے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں عقل ، ذہن ، سمجھ اور مہارت اتنی عطا کی ہے کہ جہاں وہ بہتوں کے لئے قابل رشک ہیں وہاں وہ بہتوں کے لئے حسد کے قابل بھی ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں حاسدوں کے حسد سے بچائے اور ہمارے نزدیک جو ان کا حق ہے۔خدا کرے کہ اس کے نزدیک بھی وہ حق ان کا ہو وہ حق انہیں مل جائے اور دنیا والے اس کی راہ میں روک نہ بنیں۔سب سے ضروری دُعا تو اسلام کے غلبہ کی ہے۔باقی دعا ئیں جو میں نے بتائی ہیں وہ بھی ضرور کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہی آپ کو اپنی حفاظت اور امان میں رکھے اور ہر قسم کے دکھوں اور پریشانیوں سے محفوظ رکھے یا اگر وہ اس دکھ اور پریشانی سے آپ کا امتحان لینا چاہے تو خود آپ کو یہ توفیق عطا کرے کہ آپ اس امتحان میں کامیاب ہوں اور اس طرح اس کے فضلوں کو جذب کرنے والے ہوں اور خدا کرے کہ وہ نور جو آسمان سے ہمارے لئے نازل ہوا تھا۔ہمارے دل ، ہمارے سینے ، ہمارے دماغ اور ہماری آنکھیں اور ہمارے دوسرے حواس ہمیشہ اس نور سے منور رہیں اور دنیا کے لئے اور دنیا کی نگاہ میں ہم ایک نور مجسم بن جائیں تا دنیا اس نور کے حسن کو اور اس کو حاصل کرنے کے بعد جو وہ احسان ان پر کرتا ہے اس کو پہچاننے اور اس میں حصہ دار بننے کی کوشش کرے۔غیر مطبوعہ )