سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 78 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 78

78 سبیل الرشاد جلد دوم دعاؤں کو قبول بھی کر لیا۔میری اور آپ کی دعائیں ایک ہی شکل میں آسمان پر پہنچیں اور قبول ہوئیں۔گزشتہ ایک خطبہ میں جب میں نے بعض منذر خواہیں دوستوں کے سامنے بیان کیں اور بتایا کہ اس قسم کی خوا ہیں بعض دوستوں نے دیکھی ہیں تو میرا یہ خطبہ یورپ بھی پہنچا۔ہمارے ایک مبلغ نے کہا کہ جب میں نے جماعت میں دعا کے لئے تحریک کی تو وہاں کے ایک مقامی احمدی باشندے نے کہا۔تحریک کی کیا ضرورت ہے۔آپ کو صرف یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ کیا بات ہے اس سے زیادہ بات کہنے کی ضرورت نہیں۔ہما را دل خود بخود دعا کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور یہ کتنا بڑا فضل ہے کہ دنیا میں جہاں بھی احمدی ہیں اس شخص کے لئے دعاؤں میں لگ جاتے ہیں۔میں تو خدا تعالیٰ کے ان فصلوں کو دیکھ کر مرنے کے قریب ہو جاتا ہوں۔اور سوچتا ہوں کہ میں ان فضلوں کا کس طرح شکر ادا کروں گا۔پھر یہ چیز دیکھ کر میرے دل میں یہ احساس پیدا نہیں ہوتا کہ میں کوئی چیز ہوں۔بلکہ میرے دل میں یہ احساس شدت اختیار کر جاتا ہے کہ میں کچھ بھی نہیں۔اللہ تعالیٰ مجھ پر فضل اور رحم کر رہا ہے۔میں اس کا شکر کس طرح بجالاؤں گا۔میں اس پیاری جماعت کی خدمت کس طرح بجالا سکوں گا جو میرے ہی جسم کے اعضاء ہیں۔گوجس حد تک اللہ تعالیٰ نے مجھے تو فیق عطا کی ہے میں تدبیر کے ذریعہ بھی اور دعا کے ذریعہ بھی جو کچھ کر سکتا ہوں جماعت کے لئے کرتا ہوں۔اور تدبیر ہمارے پاس ہے کیا ؟ نہ ہمارے پاس مال ہے۔نہ ہمارے پاس اقتدار ہے- ہمارے پاس کوئی چیز بھی نہیں۔لیکن ایک بڑی قیمتی چیز اس نے ہمیں عطا کی ہے اور وہ دعا ہے اور میں دعا کے ذریعہ ہر وقت ساری جماعت کے لئے اور ہر فرد جماعت کے لئے جو کچھ کر سکتا ہوں ، کرتا ہوں۔لیکن پھر بھی میرے دل میں ہر وقت یہ احساس زندہ اور بیدار رہتا ہے کہ جماعت کے لئے مجھے جو کچھ کرنا چاہئے تھا۔وہ میں نے نہیں کیا۔میں ہر وقت انہبی فکروں میں رہتا ہوں۔میں آج آپ کو کھلے الفاظ میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ آپ خدا تعالیٰ کی برگزیدہ جماعت ہیں۔جو شخص آپ پر اپنی بزرگی کو ٹھونسنا چاہتا ہے۔وہ آپ کی توہین کرتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں وہ اس قسم کا گناہ کرتا ہے جو نا قابل معافی ہے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ اگر اس نے جماعت سے اپنی تقصیر کی معافی نہ مانگی تو اللہ تعالیٰ کی لعنت اس پر ہو گی۔تو اس مقدس وجود کا جو جماعت احمدیہ کا ہے یہ بزرگ مقام خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ہے۔وہ جماعت جو خدا تعالیٰ کے حضور جھکنے والی - زاری سے اس کے سامنے دعا کرنے والی۔ہر وقت اللہ تعالیٰ کی حمد میں مشغول رہنے والی اور اس کی راہ میں مالی اور جانی قربانیاں دینے والی ہے اور سب کچھ دینے کے بعد یہ سمجھنے والی ہے کہ ہم کچھ بھی نہیں۔اور ہم نے کچھ بھی نہیں کیا۔اس لئے جو فضل ہم پر ہو رہے ہیں ان میں ہماری کسی کوشش کا دخل