سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 62 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 62

62 سبیل الرشاد جلد دوم کے بعد کوئی ضرر پیدا نہ ہو۔بلکہ آدمی یہ سمجھیں کہ ہم نے جو کچھ ہم سے ہو سکا کر دیا اور جو نتیجہ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں نکلے۔اس نتیجہ کے مقابلہ میں ، ان شاندار فتوحات کے مقابلہ پر یہ قربانیاں کوئی چیز نہیں۔کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ نتیجہ نہ نکلے۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے لَا تَحْزَنُوا کہ پھر غم نہ کرنا۔کیونکہ میری نصرت ان تمام خامیوں اور کمزوریوں کو دور کر دے گی اور وہ نتیجہ نکل آئے گا جو ضرورت کے مطابق انتہائی خرچ کے بعد نکلنا چاہئے تھا۔انتہائی تدبیر اپنی طاقت کے مطابق تو تم نے کر دی لیکن ضرورت وقت کے مطابق وہ نہیں تھی۔تو یہ جو فرق ہے تمہاری طاقت تمہاری استعداد اور ضرورت وقت کا اس فرق کو میں اپنی نصرت سے پورا کروں گا اور تمہیں پھر اس سکیم پر قائم رہنا چاہئے۔کہ انتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ که اگر ایمان کے وہ نمونے دکھاؤ گے۔جو میں چاہتا ہوں کہ خدا کی راہ میں تم دکھاؤ۔تو غالب تم نے ہی آنا ہے۔دنیا کی ساری طاقتیں مل کے بھی اس الہی فیصلہ کو بدل نہیں سکتیں۔اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ اسلام کو غالب کرے۔ہماری عقل نہیں سمجھ سکتی کہ کیسے غالب کرے گا۔لیکن ہماری عقل نے تو ۹۱ - ۱۸۹۰ء میں کب سمجھا تھا کہ ہمیں اتنی طاقت حاصل ہو جائے گی جواب ہے۔گزشتہ قریباً ۹۰-۱۰۰ سال میں جماعت نے جس رنگ میں جس طور سے ترقی کی ہے۔اس وقت کی عقل انسانی اس کو سمجھ آ سکتی تھی ؟ ہر گز نہیں۔اس وقت ایمان بالغیب وہ چند افراد جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گرد جمع ہوئے تھے۔ایمان بالغیب لائے تھے۔ان کو یہ پختہ یقین تھا کہ نتیجہ ہماری نظر سے اوجھل ہے۔اور ہماری آنکھ وہاں تک نہیں پہنچ سکتی نہ ہماری جد و جہد وہاں تک پہنچ سکتی ہے۔لیکن خدا نے کہا اس لئے نتیجہ وہ نکلے گا۔پھر ہم نے اس ایک آواز کو جس کی طرف شاید پہلے دن کسی ایک نے بھی توجہ نہ کی تھی۔ساری دنیا میں گونجتے دیکھا اور لاکھوں آدمیوں نے اس آواز کو پہچانا غیر معمولی حالات میں مخالف حالات میں اور اس پر ایمان لائے اور ان کے دل اس نفس پر اس وجود پر قربان ہونے کے لئے تیار ہو گئے جس کی وہ آواز تھی اور دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں رہا کہ جہاں احمدیت پہنچ نہیں گئی اس سفر کے دوران ہی بعض جگہ مجھ سے سوال کیا گیا تھا۔کہ آپ کی جماعت کی تعداد کتنی ہے تو میں ان کو تفصیل سے یہ بتا تا تھا کہ تعداد بے معنی ہے۔ہم اس وقت کم و بیش تین ملین یعنی تمیں لاکھ ساری دنیا میں ہوں گے۔کچھ اوپر شاید ہوں۔لیکن جو چیز ہمیں تسلی دلانے والی ہے اور جو چیز ہماری صداقت پر ایک گواہ ہے۔وہ یہ ہے کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ میں خدا کی طرف سے مامور ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری مدد کرے گا۔اس کے بعد سے ہر سورج جو چڑھا اس سورج کی آنکھ نے جماعت کو پہلے سے زیادہ تعداد میں اور پہلے سے زیادہ مضبوط دیکھا۔کوئی ایک دن بھی تو ایسا نہیں۔کہ ہم اسے پہلے دن سے