سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 63
63 سبیل الرشاد جلد دوم کمزور نظر آئے ہوں اور ہر روز سورج کی آنکھ نے ایک تعداد میں زیادہ اور اس کے کام میں زیادہ مضبوط جماعت پر نگاہ ڈالی اور اللہ تعالیٰ کا یہی وعدہ ہے کہ وہ تدریجی ترقی دیتا چلا جاتا ہے۔جب تک کہ اس کی جماعت اپنے عروج کو نہیں پہنچ جاتی۔اس لئے تم ہماری تعدا د کو نہ دیکھو جو اللہ تعالیٰ کا ہم سے سلوک ہے۔اس پر نگاہ رکھو۔اور کیسے تم کہہ سکتے ہو کہ ہم غالب نہیں آئے۔یہ ایک حقیقت ہے نا ؟ ؟ ؟ کہ ہر روز جو سورج چڑھتا ہے۔وہاں وہ ہمیں پہلے دن کی نسبت سے زیادہ اور مضبوطی میں مستحکم پاتا ہے۔اسی نسبت سے وہ ساری انسانیت کو جو ہمارے مقابل پر ہے۔تعداد میں کم اور اس سے کام میں بھی کم پاتا ہے۔کیونکہ جو ہمیں ملا۔وہ ان سے چھین لیا گیا۔جو لوگ ہم میں شامل ہوں گے۔وہ ان میں سے کم ہو گئے۔اور جتنی طاقت ہماری بڑھ گئی اتنی طاقت ان کی کم ہو گئی۔جیسا کہ ابھی میں نے بتایا ہے۔انہوں نے دعوی کیا تھا کہ افریقہ عیسائیت کی گود میں ہے۔اب سوال ہی کوئی نہیں یعنی شبہ کوئی نہیں۔ان کے دماغ میں تھا یہ انیسویں صدی کے آخر کی بات ہے۔جب عیسائیوں نے اپنی کا نفرنس میں یہ دعوی کیا تھا کہ افریقہ جو ہے وہ تو عیسائیت کو مل چکا ہے۔اس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہی اور اب یہ حال ہے کہ اپنی ہی کا نفرنس میں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ حالات یہ ہو گئے ہیں کہ اگر ایک شخص عیسائیت کو قبول کرتا ہے۔تو اس کے مقابلہ میں دس اسلام کو قبول کرتے ہیں اور خدا کے فضل سے وہ دن بھی آنے والا ہے۔جب کوئی شخص بھی عیسائیت کو قبول نہیں کرے گا اور دس نہیں بلکہ دس ہزار ، دس لاکھ اسلام کے اندر داخل ہو رہے ہوں گے کیونکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بڑی کثرت سے آسمان سے فرشتوں کا نزول ہو کے ہمارے لئے راہ ہموار کر رہا ہے۔اس راہ پر چلنا ہمارا کام ہے۔فرشتوں نے راہ ہموار کر دی ہے۔ہم نے دیکھنا ہے کہ ہم ان راہوں پر اب گامزن ہوتے ہیں کہ نہیں یہ ہماری آج کی ذمہ داری ہے۔یہ دوسرے دور کی ذمہ داری ہے۔میں سمجھتا ہوں۔کہ پہلے دور کی ذمہ داریاں دوسرے دور کی ذمہ داریوں سے زیادہ تھیں۔لیکن بعض لحاظ سے دوسرے دور کی ذمہ داریاں پہلے دور سے بہت زیادہ ہیں۔کیونکہ دوسرے دور میں وسعت ہے۔اور وسعت میں بہت سی کمزوریوں کے پیدا ہو جانے کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔کمزوریوں سے بچتے رہنا اور وسعت کے مطابق کام کی وسعت قربانیوں کی وسعت اس کے مطابق قربانیاں دیتے چلے جانا خدا کی راہ پر یہ پہلے سے زیادہ مشکل ہو گا۔کیونکہ کچھ کمزور ہوں گے۔تربیت کے لحاظ سے ان کو اپنے ساتھ چلانا۔یہ نہیں ہو سکتا کہ ہماری جماعت کا ایک قدم تو آسمان پر ہے اور دوسرا تحت الثریٰ میں ہے۔پھر ہم کیسے چلیں گے۔ایک کم سے کم معیارا خلاص وصدق وصفا کا جو الہی جماعتوں میں ہونا چاہئے وہ ہر احمدی بڑے اور چھوٹے مرد اور عورت میں پیدا ہو جانا چاہئے۔اس کے