سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 61 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 61

61 سبیل الرشاد جلد دوم اموال ، عزتیں ، آرام اور سکون اور صحابہ مسیح موعود علیہ السلام کے خون کو استعمال کیا گیا ہے۔اسی طرح تابعین کی ایک جماعت تھی۔جنہوں نے مالی قربانیاں دیں۔جنہوں نے جانی قربانیاں دیں جنہوں نے اپنی عزت کی قربانیاں دیں۔جنہوں نے اپنے وقت کی قربانیاں دیں۔جنہوں نے اپنی خواہشات کی قربانیاں دیں ہر قسم کی قربانیاں انہوں نے دیں تا کہ ان قلعوں کی تعمیر مضبوط بنیادوں پر ہو سکے۔جو آج اللہ تعالیٰ دنیا میں روحانی طور پر کرنا چاہتا ہے۔اب ہم اس زمانہ میں داخل ہو رہے ہیں۔جب ان بنیادوں پر روحانی قلعوں کو تعمیر کیا جائے۔اور یہ زمانہ جس میں بنیا دوں پر قلعوں کو تعمیر کیا جاتا ہے۔اس لحاظ سے بڑا اہم ہے کہ ہمیں پہلے کی نسبت بہت زیادہ اموال کی ضرورت پڑے گی۔ہمیں پہلے کی نسبت بہت زیادہ اوقات کی ضرورت پڑے گی۔ہمیں پہلے سے زیادہ بہت زیادہ عزتوں کی قربانی کی ضرورت پڑے گی۔ہمیں پہلے سے زیادہ سکون اور آرام کی قربانیوں کی ضرورت پڑے گی اور ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ جان کی قربانی کی ضرورت پڑے گی اور اس وقت انصار اللہ کا بڑا فرض یہ ہے کہ وہ خودان قربانیوں کو دینے کے لئے تیار ہو جائیں اور تیار رہیں اور اگلی نسل کو تیار کریں کہ وہ یہ قربانیاں اپنے رب کے حضور پیش کریں۔اگر ہم نے اس زمانہ میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے۔وہ قربانیاں خدا کے حضور پیش کر دیں۔جن کا آج کا وقت مطالبہ کر رہا ہے۔تو میں امید رکھتا ہوں اپنے رب سے کہ وہ اگلے پچپیں تھیں سال کے اندر اس سے زیادہ فتوحات اسلام کو عطا کرے گا۔کہ ہماری آنکھ تو ہمیشہ ہی حیرت سے خدا کے فضلوں کو دیکھتی ہے۔دنیا کی آنکھ بھی حیرت سے خدا کے فضلوں کو دیکھنے لگے گی۔اور اس بات کے تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائیں گی کہ بڑا ہی عظیم تھا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ روحانی فرزند جس نے یہ دعوی کیا تھا کہ میرے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ دنیا میں اسلام کو غالب کرے گا۔پس اس زمانہ کی نزاکت کو سمجھیں اور اس زمانہ کی آواز کو سنیں اور اس زمانہ میں اسلام جو مطالبہ کر رہا ہے۔اس مطالبہ کو پورا کرنے کے لئے ہر دم تیار ہوں۔اگر ہم ایسا کریں اور اگر ہم خدا کرے کہ اس کی نگاہ میں انصار اللہ بنے رہیں۔تو پھر میں اپنے رب پر کامل یقین رکھتے ہوئے بڑی ہی خوشیاں اور فتوحات مستقبل قریب میں دیکھ رہا ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ اعلیٰ تو یہ ہیں - اَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مؤْمِنِينَ اگر اس پختہ ایمان پر ہم قائم رہیں اور ایمان کی علامت اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بیان کی ہے کہ لَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا۔ایک یہ کہ تدبیر میں کمی نہ ہو۔قربانیاں دینے میں غفلت کو اختیار نہ کیا کرو جہاں ایثار کے نمونے دکھانے ہوں۔وہاں سستی نہ دکھائی جائے اور تدبیر کو کمال تک پہنچانے سوره آل عمران آیت ۱۴۰