سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 497
27 پھر اسی خطبہ میں حضور نے آگے چل کر فرمایا۔یہ کوشش ہونی چاہئے کہ آئندہ ہم کم سے کم معیار پر ضرور پہنچ جائیں یعنی تمام جماعتوں کے نمائندے لجنہ اماءاللہ، ناصرات الاحمدیہ، خدام الاحمدیہ، اطفال الاحمدیہ اور انصار اللہ کے اجتماعوں میں ضرور شامل ہوں اور یہ کوئی مشکل کام نہیں صرف اس کی طرف توجہ کی ضرورت ہے جو اب تک ہوتی نہیں رہی اور جو جماعتی نظام ہے وہ میرے سامنے ذمہ دار ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو انشاء اللہ میں نگرانی کروں گا کہ ان جماعتوں میں ہر جماعت کی نمائندگی ضرور ہو یعنی جماعت میں جو افراد خدام الاحمدیہ کی عمر کے ہیں وہ خدام الاحمدیہ کے اجتماع میں شامل ہوں اور اس طرح اپنی جماعت کی نمائندگی کریں جو افرا دانصار اللہ کی عمر کے ہیں ان کی نمائندگی انصار اللہ کے اجتماع میں ہونی چاہئے۔اسی طرح ہر جماعت کی مستورات اور ناصرات الاحمدیہ کی نمائندگی لجنہ اماءاللہ کے اجتماع میں ہونی چاہئے۔اگر چھوٹی سی جماعت ہے ایک نمائندہ ہی وہاں سے آ جائے لیکن ہر جماعت کا کوئی نہ کوئی نمائندہ ان اجتماعوں میں شامل ضرور ہو کیونکہ جو نمائندے ان اجتماعوں میں شامل ہوں گے وہ ایک نئی روح اور ایک نئی زندگی لے کر واپس جائیں گے۔" خطبات ناصر جلد دوم صفحہ 948-949) اجتماعات پر تقریری پروگرام حالات و معمول کے مطابق بنائیں حضور نے خطبہ جمعہ 31 اکتوبر 1969 ء میں فرمایا۔اسی طرح جو مختلف پروگرام ہیں ان کے متعلق بھی جور پورٹ ملی ہے وہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہمارا معیار خدا تعالیٰ کے فضل سے گرا نہیں بلکہ پہلے سے بلند ہی ہوا ہے۔ہرست تنظیمیں مختلف روا تیں رکھتی ہیں ان میں ہے ہر ایک کے اندر ایک انفرادیت پائی جاتی ہے۔جب میں انصار اللہ کا صدر تھا اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے تو فیق دی تھی کہ ان کے سالانہ اجتماع کا پروگرام اس طرح بنایا جائے کہ ایک مضمون سے لے کر یکے بعد دیگر مختصر تقاریر کی جائیں یا لکھے ہوئے مضمون پڑھے جائیں اور پھر اس رنگ میں پڑھے جائیں کہ ان کا اثر دماغوں پر بہت گہرا اور وسیع ہو۔اصل میں تو ہمارا مضمون ایک ہی ہے اور وہ تو حید باری ہے لیکن تو حید باری کو سمجھنے کے لئے اور بہت سی راہیں ہمیں اختیار کرنی پڑتی ہیں مثلاً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری عظیم اور بڑی حسین زندگی کا اگر نچوڑ نکالا جائے اور وہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے ) یہی حال رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کا ہے " خطبات ناصر جلد 2 صفحہ 949-950)