سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 486 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 486

16 $ 1967 دنیا کو اس وقت ہماری دعاوں کی بڑی ضرورت ہے حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ نے خطبہ جمعہ 24 فروری 1967 ء میں فرمایا۔"ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا ہادی اور رہبر تسلیم کیا ہے اور اپنے رب رحیم کے حکم کے ماتحت اور اس کی خوشنودی اور رضا کے حصول کے لئے یہ عہد کیا ہے کہ ہم اپنے محبوب آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لئے ہمیشہ اسوۂ حسنہ بنائے رکھیں گے اور وہی رنگ اپنی طبیعتوں پر اور اپنی زندگیوں پر چڑھانے کی کوشش کرتے رہیں گے جس رنگ کو اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت صحیحہ پر چڑھایا تھا اور یہ صفات باری کے انوار کا حسین رنگ تھا۔ایک بڑی نمایاں خصوصیت جو ہمارے آقا میں پائی جاتی تھی اور جو اپنی انتہاء کو پہنچی ہوئی تھی اور جس کے نتیجہ میں ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس مقام کے لئے منتخب کیا تھا اور چنا تھا کہ آپ تمام دنیا کے لئے اور تمام جہانوں کے لئے اور تمام زمانوں کے لئے ابدی شریعت لے کر آئیں اور قرآن کریم کے حامل ہوں جس کے اندر کبھی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی اور جس کا کوئی لفظ اور کوئی حرف اور کوئی زبر اور زیر بھی کبھی منسوخ نہیں ہوئی وہ رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِینَ “ ہونے کی خصوصیت ہے۔بنی نوع انسان سے کسی انسان نے اس قدر شفقت اور محبت نہیں کی جتنی شفقت اور محبت کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بھائی انسانوں سے کی ، نہ صرف ان انسانوں سے جو آپ کے سامنے تھے نہ صرف ان انسانوں سے جو آپ کے ملک میں رہنے والے تھے، نہ صرف ان انسانوں سے جو آپ کی زندگی میں ساری دنیا اور دنیا کے ہر ملک کو آباد ر کھے ہوئے تھے بلکہ تمام ان انسانوں سے بھی جو آپ سے پہلے گزر چکے تھے اور تمام ان بنی نوع انسان سے بھی جنہوں نے آپ کے بعد پیدا ہونا تھا آپ نے سب سے ہی اس محبت کا اس رحمت اور شفقت کا سلوک کیا۔اور یہ جذ بہ اللہ تعالیٰ نے اس شدت سے آپ کے دل میں پیدا کیا تھا جس کی مثال انسان کو کہیں اور نظر نہیں آتی۔یہ ایک بڑی نمایاں صفت تھی جو ہمارے آقا میں پائی جاتی تھی اور یہی وہ صفت ہے جس کی طرف میں بڑے اختصار کے ساتھ اپنے بھائیوں کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔آج دنیا کو ضرورت ہے اس رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِینَ کے جاں نثاروں کی جو دنیا کی بہتری کے لئے اپنی زندگیاں قربان کر رہے ہوں۔ہمارا جو جماعت احمدیہ کی طرف منسوب ہوتے ہیں ویسے تو ہر کام ہی ، ہر منصوبہ ہی ، ہر کوشش ہی اور ہر جد وجہد ہی بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے ہے لیکن ان تمام کوششوں اور ان تمام