سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 487
17 تدابیر کے علاوہ اس وقت دنیا کو ہماری دعاؤں کی بڑی ہی ضرورت ہے۔" خطبات ناصر جلد اول صفحہ 588-589) تو حید خالص کو اپنے نفسوں اور اپنے ماحول میں قائم کریں حضور رحمہ اللہ نے خطبہ جمعہ 24 فروری 1967 ء میں فرمایا۔ہماری جماعت کا پہلا اور آخری فرض یہ ہے کہ توحید خالص کو اپنے نفسوں میں بھی اور اپنے ماحول میں بھی قائم کریں اور شرک کی سب کھڑکیوں کو بند کر دیں ہمارے گھروں میں صرف تو حید کے دروازے ہی کھلے رہیں اور شرک کی سب راہوں کو ہم کلیۂ چھوڑ دیں اور توحید کی راہوں پر بشاشت کے ساتھ چلنے لگیں ہم بھی اور ہمارے بھائی بھی اور نوع انسان کے رشتہ سے جو ہمارے بھائی ہیں وہ بھی اس توحید خالص کی تعلیم پر قائم ہو جائیں۔توحید کے قیام میں ایک بڑی روک بدعت اور رسم ہے یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہر بدعت اور ہر بد رسم شرک کی ایک راہ ہے اور کوئی شخص جو تو حید خالص پر قائم ہونا چاہے وہ توحید خالص پر قائم نہیں ہو سکتا جب تک وہ تمام بدعتوں اور تمام بد رسوم کو مٹانہ دے۔ہمارے معاشرے میں خاص طور پر اور دنیا کے مسلمانوں میں عام طور پر بیسیوں، سینکڑوں شائد ہزاروں بدرسمیں داخل ہو چکی ہیں احمدی گھرانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ تمام بدرسوم کو جڑ سے اکھیڑ کے اپنے گھروں سے باہر پھینک دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس وقت اصولی طور پر ہر گھرانے کو یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ میں ہر گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر اور ہر گھرانہ کو مخاطب کر کے بد رسوم کے خلاف جہاد کا اعلان کرتا ہوں۔اور جو احمدی گھرانہ بھی آج کے بعد ان چیزوں سے پر ہیز نہیں کرے گا اور ہماری اصلاحی کوشش کے باوجود اصلاح کی طرف متوجہ نہیں ہو گا وہ یہ یادر کھے کہ خدا اور اس کے رسول اور اس کی جماعت کو اس کی کچھ پرواہ نہیں ہے وہ اس طرح جماعت سے نکال کے باہر پھینک دیا جائے گا جس طرح دودھ سے مکھی پس قبل اس کے کہ خدا کا عذاب کسی قہری رنگ میں پ پر وارد ہو یا اس کا قہر جماعتی نظام کی تعزیر کے رنگ میں آپ پر وارد ہو اپنی اصلاح کی فکر کرو اور خدا سے ڈرو اور اس دن کے عذاب سے بچو کہ جس دن کا ایک لحظہ کا عذاب بھی ساری عمر کی لذتوں کے مقابلہ میں ایسا ہی ہے کہ اگر یہ لذتیں اور عمریں قربان کر دی جائیں اور انسان اس سے بچ سکے تو تب بھی وہ مہنگا سود نہیں ستا سودا ہے۔پس آج میں اس مختصر سے خطبہ میں ہر احمدی کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے منشاء کے آن