سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 243 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 243

243 سبیل الرشاد جلد دوم عمدہ اور اتنی آسائشوں اور مسرتوں اور سرور والی ہے کہ جس کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ ان خوبیوں کا تم اس دنیا میں تصور بھی نہیں کر سکتے۔اگر اس پر یقین نہیں تو اس جنت کے حصول کے لئے کوئی کوشش کیوں کرے گا۔اگر منافق کو اس دنیا میں آخری کامیابی پر یقین نہیں تو وہ قربانیاں کیوں دے گا۔وہ بدر کے میدان سے واپس آ جائے گا۔وہ احد کے میدان میں فتنہ بپا کرے گا۔اور غداری کرے گا۔وہ ہر ایسے موقع پر جہاں انتہائی جانی قربانی کا خطرہ پیدا ہو گا۔وہ اس میں شامل نہیں ہو گا۔اس لئے کہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ جنگ یہاں ہار جانی ہے اور اخروی زندگی میں کوئی جنت نہیں ہے۔پس شکوک و شبہات کے نتیجہ میں منافق کے اندر کمزوریاں پیدا ہوتی ہیں اور وہ قربانیاں دینے سے گریز کرتا اور ہچکچاتا ہے۔فرمایا اُس وقت یعنی میدان حشر میں کہا جائے گا کہ تم نے شک کیا۔لیکن یہاں کہتے ہو کہ ہم بھی تمہارے ساتھ تھے، ہمیں بھی اپنے نور کا حصہ دو اور وہاں تم کہتے تھے کہ مرنے کے بعد جنت ہے ہی کوئی نہیں۔جب انسان مر جائے گا تو سارا قصہ ختم ہو جائے گا۔آج تمہیں کیسے نور مل جائے گا۔اس ریب کی وجہ سے جو تم اس دنیا میں کرتے رہے ہو اور جس کے نتیجہ میں تمہیں قربانیاں کرنے کی توفیق نہیں ملی بلکہ تمہیں نفاق کی توفیق ملی جس کی سزا تمہارے سامنے ہے۔پس دوسری چیز جو منافق میں پائی جاتی ہے۔وہ یہ ہے کہ چونکہ اس کو اللہ تعالیٰ کی فتح و نصرت اور جنتوں اور اس کی رضا کے حصول کے وعدوں پر یقین کامل نہیں ہوتا اور وہ شک میں پڑا ہوتا ہے۔کبھی اسے شبہ پڑ جاتا ہے۔یعنی اس کی حالت لَا إِلى هؤلاء وَلَا إلى هؤلاء کی مصداق ہوتی ہے۔کبھی وہ کہتا ہے کہ شاید یہ بات صحیح ہوا اور کبھی اس کا دل کہتا ہے کہ شاید یہ بات صحیح نہ ہو۔اس واسطے وہ مسلمان بھی رہنا چاہتا ہے اور قربانیوں سے بچنا بھی چاہتا ہے۔وہ کبھی یہ نہیں سوچتا کہ کیا وجہ ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مخلصین صحابہ نے میدان جنگ میں ذاتی خوشی اور بشاشت سے اپنی جانوں کو خدا کے حضور پیش کیا کہ اتنی خوشی اور بشاشت سے ایک شخص اپنے سونے والے کمرہ سے اپنے بیٹھنے والے کمرہ میں نہیں آتا۔یہ یقین کامل کا نتیجہ تھا۔جتنا ان کو یہ یقین تھا کہ آج ہم زندہ ہیں اور میدانِ کارزار میں دشمن کا دفاع کرنے کے لئے آئے ہوئے ہیں اتنا ہی ان کو یہ یقین تھا کہ مرنے کے بعد ایک اور زندگی ہے اور دوزخ اور جنت برحق ہے ہم اٹھائے جائیں گے اور اسی دن فیصلہ کیا جائے گا۔اللہ تعالیٰ کا قہر ہمارے مقدر میں ہو گا یا اس کی رضا اور اس کا پیار ہمارے مقدر میں ہوگا۔قہر کا تصور ، اگر واقع میں اللہ ہے، اگر واقع میں مرنے کے بعد ایک اور زندگی ہے۔اگر واقع میں اس زندگی میں یا قہر یا رضا اور محبت کے جلوے ظاہر ہوں گے تو ایک لمحہ کے لئے انسان یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ اللہ کے قہر کو قبول کرے۔