سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 242 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 242

242 سبیل الرشاد جلد دوم مگر اسلام کی طرف سے عائد شدہ پابندیوں کے نیچے اپنی گردن نہیں رکھ سکتا۔اس واسطے وہ یہ انتظار کرتا ہے کہ کسی طرح چھٹکارا ہو جائے۔بس قصہ ختم ہو جائے اور میں پھر اسی طرح دنیا میں عیش کرنے کے لئے آزاد ہو جاؤں۔پس یہ تَرَبَّصْتُم اس طرف اشارہ کر رہا ہے کہ منافق اسلامی احکام بجالانے میں کوفت محسوس کرتا ہے۔وہ بشاشت کے ساتھ ان احکام کو بجالانے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔اس لئے مسلمان کہلانے کے باوجود وہ اس بات کا انتظار کر رہا ہوتا ہے کہ کسی طرح یہ تباہ ہوں اور ہم پھر آزاد ہو جا ئیں۔یہ منافق کی ایک علامت ہے جو یہاں بیان کی گئی ہے۔یہ وہ بنیادی علامت ہے جو منافق کی ذہنیت سے تعلق رکھتی ہے۔پھر فرمایا وَارْتَبْتُم ان کو کہا جائے گا کہ تمہارے اندر ایک اور وصف پایا جاتا ہے اور وہ تمہارے دلوں میں ریب کے ہونے کا وصف ہے۔یقین کے فقدان کو ریب کہتے ہیں۔منافق کو کسی بات پر یقین نہیں ہو تا قرآن کریم نے ایک دوسری جگہ از تبتُم کی تشریح بھی کی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِنَّمَا يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَارْتَابَتْ قُلُوبُهُمْ فَهُمْ فِي رَيْبِهِمُ يَتَرَدَّدُونَ۔فرمایا منافقوں کے دل میں یہ شکوک و شبہات اور یقین کا فقدان اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فتح و ظفر کی جو بشارتیں دی ہوں اُن کے ساتھ انہیں یقین پیدا نہیں ہوتا۔تو چونکہ ان کو آخری کامیابی پر یقین نہیں ہوتا۔اس لئے درمیانی عرصہ میں قربانیاں دینے کے لئے منافق تیار نہیں ہوتا۔جب کہ مومن کی ساری قربانیاں اور اس کا مجاہدہ یقین کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے۔جس شخص کو یہ پتہ ہو کہ مثلاً سوگز کی دوڑ صرف مجھے تھکانے کے لئے کی گئی ہے۔اس کا جو انعام ہے وہ مجھے نہیں ملے گا تو اسے اس دوڑ سے کوئی دلچسپی نہیں ہوگی۔لیکن اگر اس دوڑ میں ہی آپ کہیں کہ سونے کا تمغہ ملے گا تو پھر اس دوڑ میں ایک کی بجائے سولر کے شامل ہوں گے۔تو نتیجہ کی کامیابی پر یقین کام کرنے کی جرات اور قربانیاں دلاتا ہے لیکن منافق چونکہ اللہ تعالیٰ کی بشارتوں پر ایمان نہیں لاتا یعنی وہ بشارت جو آخری کامیابی یعنی فتح وظفر کے متعلق ہے اس کے پورا ہونے پر اُسے یقین نہیں ہوتا اس لئے جو درمیانی عرصہ کے مختلف امتحان اور مصائب ہیں ان کو وہ برداشت نہیں کرتا۔ان سے گھبراتا ہے۔حالانکہ اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ نے امت محمد یہ کو کامیابی کی بشارتیں دی ہیں اور اخروی زندگی میں جنت کا بھی وعدہ دیا گیا ہے۔جو شخص آخرت پر حقیقی ایمان نہیں لائے گا اور یہ نہیں سمجھے گا کہ واقع میں کوئی جنت ہے اور وہ اتنی حسین اور اتنی اعلیٰ اور اتنی سورۃ التوبہ آیت ۴۵