سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 221
سبیل الرشاد جلد دوم 221 سیدنا حضرت خلیفة المسیح الثالت نا رت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کا افتتاحی خطاب فرموده ۱۷ رنبوت ۱۳۵۰۰ بهش ۷ ارنومبر ۱۹۷۲ء بمقام احاطہ دفاتر مجلس انصاراللہ مرکز یہ ربوہ ساڑھے تین بجے شام سید نا حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ۱۷ نومبر۱۹۷۲ء کو جلس انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع کا افتتاح فرمایا۔اس موقع پر حضور رحمہ اللہ کے افتتاحی خطاب کا مکمل متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی۔كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ) اور پھر فرمایا ”ہم نے انصار کے اس اجتماع کو دعاؤں سے شروع کیا اور ہماری ہر آن یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحم سے ہماری نیک خواہشات کو پورا کرے اور ہماری پاک دعاؤں کو قبول فرمائے۔اللہ تعالیٰ نے اسلام میں ایک مسلمان کو جو تعلیم دی ہے وہ یہ ہے کہ اس کا یعنی انسان کا اپنا کچھ نہیں۔سب کچھ اس کے رب کا ہے۔اور سب کچھ اس کی مخلوق کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔انسان اپنی زندگی رکھتے ہوئے بھی اپنی زندگی نہیں رکھتا۔اور اپنی تمام دولت و ثروت کے با وجو د جیب خالی رکھتا ہے اور اپنی ساری طاقت اور اقتدار کے ہوتے ہوئے بھی ایک خادم کی حیثیت میں دنیا میں پیدا ہوا ہے۔ہم عام طور پر بار بار جماعت کے سامنے یہ بات تو لاتے رہتے ہیں کہ اسلام کے معنی اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی گردن کو رکھ دینے کے ہیں کہ اگر وہ چاہے تو اس کی راہ میں جان تک قربان ہو جائے۔اللہ تعالیٰ جو رب العالمین ہے اُس نے ہماری ربوبیت کے لئے اس سارے جہان کو ، اس عالم کو پیدا کیا ہے۔اور ہم میں تسخیر کرنے کی طاقت اور اس عالمین میں تسخیر ہو جانے کی قوت پیدا کی ہے۔ہمارا جو کچھ بھی ہے یا تو اس عالم کی وجہ سے اور ان جہانوں کے نتیجہ میں ہے یا ان طاقتوں اور قوتوں یا اس عقل اور فراست کی وجہ سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائی ہے۔سورة آل عمران آیت: ۱۱۱