سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 222
سبیل الرشاد جلد دوم 222 ایک مادہ یعنی ٹھوس چیز ہے جس سے ہم کام لیتے ہیں۔یہ ایک طاقت ہے جس سے ہم اپنے فائدہ کے لئے خدا کی مخلوق کا استعمال یا اسے تسخیر کرتے ہیں۔یہ مادی اشیاء نہ ہم نے پیدا کیں اور نہ پیدا کر سکتے ہیں۔یہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں اور جس طاقت کے نتیجہ میں ، جس ہنر کے حاصل کرنے کے بعد، جس عقل و فراست کی وجہ سے ہم اس عالمین کو تسخیر کرتے اور انسان کے فائدہ کے لئے اس مادہ سے نئی نئی چیزیں اور نئی سے نئی طاقتیں نکالتے ہیں۔یہ سب اللہ تعالیٰ کی دین ہے۔غرض یہ مادی دنیا اور ہماری یہ قوتیں اور استعداد میں نہ تو ہماری پیدا کردہ ہیں۔اور نہ ہم ان کو پیدا کر سکتے ہیں۔یہ ایک موٹی بات ہے جسے ہر انسان کی عقل تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک چھوٹے سے فقرہ میں اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔گھر سے تو کچھ نہ لائے" پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ربوبیت کے لئے اللہ تعالیٰ کی رحمانیت نے جلوے دکھائے۔چنانچہ جب انسان نے فعل اور عمل کے میدان میں داخل ہونا تھا۔اور جہاد اور مجاہدہ کرنا تھا۔اور کوشش اور محنت کرنی تھی اور احسان کے نتیجہ میں اپنی محنت کی قوت کو اجاگر کرنا تھا اور اسے بڑھانا تھا یا اپنے اندر زیادہ طاقت پیدا کرنی تھی تو اُس وقت بھی ہمیں یہی فرمایا کہ خدائے رحیم کی برکت کے بغیر تم کامیاب نہیں ہو سکتے۔کیونکہ انسان خواہ کتنا ہی ہوشیار کیوں نہ ہو۔خواہ کتنا ہی سمجھ دار کیوں نہ ہو۔خواہ کتنا ہی محنتی کیوں نہ ہو۔خواہ وہ کتنے ہی اچھے طریق پر مثلاً اپنی کھیتی کو تیار کر دے۔اس میں وقت پر دانہ ڈال دے۔جسے کھیتی باڑی کی اصطلاح میں آپٹیم پیریڈ (Optimum Period) کہتے ہیں یعنی وہ وقت جس میں بیج بونے سے سب سے زیادہ گندم پیدا ہونے کی امید رکھی جا سکتی ہے۔پھر وہ وقت پر کھاد دے۔وقت پر پانی دے۔غرض اس ساری محنت کے باوجود پھر بھی کچھ نہ کچھ خامیاں ضرور رہ جاتی ہیں جو بعض دفعہ انسان کو معلوم ہوتی ہیں۔بعض دفعہ اس کو معلوم نہیں ہوتیں۔چنانچہ بسا اوقات ہمارا کوشش کرنا اور روپیہ کو خرچ کرنا رائیگاں جاتا اور ہماری دن رات کی محنت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔اس لئے نتیجہ نہیں نکلتا کہ یہ تو خدائے رحیم ہی ہے جو ہماری مدد کو آتا اور وہ ہماری قربانیوں کا ، ہماری محنتوں کا اور ہماری کوششوں کا نتیجہ نکالتا ہے۔اور ہمیں وہ غذا دیتا ہے تب جس باغ کو ہم نے اپنے خون سے سینچا تھا۔وہ ہمیں ثمر آور نظر آتا ہے۔اور اس کے پھل ہمیں ملتے ہیں۔دنیا میں بھی ایک جنت ہمارے لئے پیدا کی جاتی ہے اور مرنے کے بعد تو ایک جنت ہے ہی۔جو اتنی حسین جنت ہے جس کا ہم آج تصور بھی نہیں کر سکتے وہ ہمارے مقدر اور نصیب میں ہوتی ہے۔میں نے آپ کے سامنے یہ باتیں اس لئے زیادہ تفصیل کے ساتھ اور بار بار رکھی ہیں کہ