سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 160 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 160

160 سبیل الرشاد جلد دوم رہا ہوں اس لئے مثال بھی اسی قسم کی دے رہا ہوں) میں اتنی طاقت دی کہ اس کا بچہ دسویں جماعت تک کوشش کرے اور پڑھ سکے اس کے بعد اس کی تدبیر ختم ہو جاتی ہے کیونکہ اس بیچارے کے پاس سامان موجود نہیں لیکن اسلامی تعلیم نے ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں کہ وہ بچہ اپنی کوشش کو انتہا تک پہنچا کر پی ایچ ڈی (۔Phd) بلکہ اس کے بعد کے امتحان بھی دے اور دنیا کے چوٹی کے سائنس دانوں میں سے ہو جائے۔یہ تعلیم رحیمیت کا ایک جلوہ ہے لوگوں کو یہ کہا کہ اگر تم میرا پیار حاصل کرنا چاہتے ہو، اگر تم اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل کرنا چاہتے ہو تو یہ رحیمیت کے جلوے جو میرے وجود میں دنیا کو نظر آ رہے ہیں میرے اسوہ کی اتباع کر کے یہی صفات اپنے اندر بھی پیدا کرو تا کہ میرے فیوض روحانی قیامت تک دنیا میں جاری رہیں اور میری برکات کے زندہ نظارے دنیا دیکھتی رہے۔صحابہ میں تمہیں نظر آیا کہ ان کے جو نقائص تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دور کیا حالانکہ ان کا کوئی اجر نہیں تھا۔لیکن جیسا کہ میں نے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی صفت کے متعلق بیان کیا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صفت رحیمیت کے مظہر ہونے کی وجہ سے یہ سمجھ لیا کہ انہوں نے کام کیا ہے اور آپ نے ان کا اجر دیا ہے اور ان کے ایمان کو قبول کیا گیا۔بعض لوگ ایمان لاتے ہیں وہ بڑا پختہ عقیدہ رکھتے ہیں لیکن عمل میں کمزور ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا ایمان قبول ہو گیا حالانکہ ایمان اپنی کوشش سے قبول نہیں ہوا کرتا۔ایمان اللہ تعالیٰ کے فضل سے قبول ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کے لئے تدبیر اور دعا ہر دو کی ضرورت ہے۔صحابہ کرام کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت رحیمیت کے مظہر ہونے کی وجہ سے جو بنیادی نعمت اس دنیا میں ملی وہ ثبات قدم اور استقلال تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کی نعمت کو پالینے کی اہلیت ان میں پیدا ہو گئی۔ثبات قدم اور استقلال کے یہی معنی ہیں اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ صحابہ کو صرف یہ ایک نعمت ہی نہیں ملی بلکہ اس کے نتیجہ میں ان میں یہ اہلیت پیدا ہوگئی کہ وہ ہر قسم کی نعمت اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل کر لیں۔کیونکہ تدبیر اور دعا کو بہر حال کمال تک پہنچانا ضروری ہے۔اور یہ ثبات قدم اور استقلال کے بغیر ممکن نہیں ہے اور ثبات قدم اور استقلال جیسی عظیم نعمت صحابہ کرام کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل حاصل ہوئی۔پھر آپ مالکیت یوم الدین کے بھی مظہر بنے اس کا ایک ظاہری نتیجہ تو ہمیں فتح مکہ کے دن نظر آیا کہ اس دن آپ کا سلوک اپنوں اور غیروں سے اس شخص کا سانہیں تھا جو اجرت پر کام کرنے والے کا ہوتا ہے۔مثلاً اس کے کارخانہ دار کا کوئی مزدور ہو اور اس نے اس کی جزا دینی ہو یا جس نے عمل ایسے کئے ہیں