سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 161 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 161

سبیل الرشاد جلد دوم 161 کہ ان کے مقابلہ میں اسے ضرور سزا ملے۔سزا دینا تو ایک حج کا کام ہے نا !۔۔۔ایک حج کے سامنے اگر گواہیاں ایسی ہوں کہ کسی شخص نے دوسرے کا مال لوٹا ہے تو وہ مال واپس دلواتا ہے کیونکہ وہ مالک نہیں بلکہ وہ ایک عدل کرنے والا منصف اور حج ہے۔لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مالکیت یوم الدین کی صفت کے مظہر ہونے کا جلوہ فتح مکہ کے دن عام لوگوں نے بھی بالکل واضح طور پر سامنے دیکھا۔آپ کا اس دن اپنوں کے ساتھ یہ سلوک تھا کہ آپ نے ان لوگوں کو کہ جن کی تلواریں اسلام کے حق میں میانوں سے نکلیں اور ان سے خون ٹپک رہا تھا ان کو تو اموال نہیں دیئے۔بلکہ اموال آپ نے دوسروں میں تقسیم کر دیئے۔بعض بے وقوفوں کو جن کا ایمان پختہ نہ تھا اس کی سمجھ نہ آئی اور انہیں اس پر اعتراض پیدا ہو گیا حالانکہ انہوں نے اپنا کوئی حق صحیح معنی میں قائم ہی نہیں کیا تھا۔کوئی شخص نہ خدا پر اپنا حق قائم کر سکتا ہے اور نہ اس شخص کے اوپر اپنا حق قائم کر سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر اتم تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہا۔تم تو بھول میں ہو میں نے اپنے ماننے والے متبعین مخلصین کے درمیان بڑی پیاری تقسیم کی ہے۔ان میں سے ایک حصہ کو میں نے ان کی ضرورتیں دیکھ کر دنیوی اموال دیئے اور دوسرے گروہ کو ان کے دلوں میں اپنی محبت دے کر میں نے انہیں اپنی صحبت اور اپنا وجود دے دیا۔معترض کا اعتراض سن کر مخلصین بڑے پریشان ہوئے وہ بڑے بے چین ہوئے ان کے اوپر گویا ایک موت وارد ہوئی۔اور ان کی یہ خواہش تھی کہ کاش اس بات کے سننے سے پہلے ہی وہ مرجاتے۔کسی بیوقوف نے کیا بُر افقرہ اپنے منہ سے نکالا ہے حالانکہ اس بیوقوف نے وہ فقرہ اپنے منہ سے اس لئے نکالا تھا کہ اللہ تعالی یہ بتانا چاہتا تھا کہ میرا یہ بندہ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) میری صفت مالکیت کا مظہر ہے۔اس کا سلوک اپنے صحابہ کے ساتھ ایک عدل کرنے والے اور منصف اور حج کا نہیں بلکہ اس کا سلوک ایک با دشاہ اور قادر اور مالک کا سلوک ہے۔آپ نے دشمنوں کے ساتھ جو سلوک کیا وہ بھی ایک عدل کرنے والے کا سلوک نہیں تھا۔آپ نے انہیں وہ حق نہیں دیا جو ان کی غفلتوں اور بد اعمالیوں اور ایذاء دہانیوں کا دنیا کے لحاظ سے بنتا تھا۔دنیا کے لحاظ سے ان کا حق تو یہ تھا کہ ان کی گردنیں اڑا دی جاتیں اور اگر ان پر کچھ رحم کیا جاتا تو ان کو غلام بنا کر مدینہ میں لے جایا جا تا۔ان کے اموال لوٹ لئے جاتے ، اُن کے بچوں اور عورتوں کو بھی غلام بنا لیا جاتا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن اللہ تعالیٰ کی صفت مالکیت یوم الدین کے مظہر کے طور پر مکہ کے میدان میں کھڑے ہوئے تھے۔آپ نے اپنے دشمنوں کو جن کے حقوق کچھ اور تھے وہ اس بات کا حق رکھتے تھے اور سزاوار تھے کہ اللہ تعالیٰ کے غضب اور قہر کا جلوہ دیکھیں اکٹھا کیا اور یہ منادی کی