سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 159 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 159

سبیل الرشاد جلد دوم 159 جانا۔اس چھلی (بھٹہ ) کے دانوں میں بھی جب پڑے ہوئے ہوتے ہیں کیونکہ دانے ایک دوسرے کے اوپر چڑھے ہوتے ہیں۔بہر حال انہوں نے مکئی کا بہت عمدہ بیج اس زمین میں بویا۔اُن کی کوشش یہیں تک تھی کیونکہ وہ علاقہ بارانی ہے اور اللہ تعالیٰ کے عام رحم کے جلووں کے نتیجہ میں بارشیں ہوتی رہتی ہیں لیکن جس وقت ملکی کو بھٹے لگنے کا وقت آیا تو خشک سالی شروع ہوگئی اور بارش نہ ہوئی۔انہوں نے خود بھی دعا کی اور مجھے بھی دعا کے لئے لکھا اور کہا ہم نے بڑی محنت کی ہے۔ہماری پہلی فصل ہے اور بچوں، جوانوں اور بوڑھوں ، عورتوں اور مردوں سب نے اس کوشش میں حصہ لیا ہے اور اس میں جماعت کا فائدہ تھا لیکن اب ہمیں نظر آتا ہے کہ ہماری اس کوشش کا کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا تو ہمیں بہت مایوسی ہوگی آپ ہمارے لئے دعا کریں۔خیر وہ بھی دعا کرتے رہے اور میں بھی دعا کرتا رہا اور اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور صرف اسی علاقہ میں بارش ہوئی ، باقی ارد گرد کا سارا علاقہ اسی طرح خشک سالی کا شکار رہا اور لوگوں کی فصلیں خراب ہو گئیں ، لیکن دعا کے نتیجہ میں اس علاقہ میں بارش ہوئی اور پھر وقت پر بارش ہوتی رہی اور اس کے نتیجہ میں فصل بہت اچھی ہوئی۔اسی مکئی کی چھٹی (بھٹہ ) اتنی بڑی تھی کہ اتنی بڑی چھاتی میں نے کبھی نہیں دیکھی۔ایک دن ایک پارسل مجھے آیا۔جس میں عرق کی بوتل جتنی کوئی چیز تھی جو بڑی سخت تھی اور وہ کسی غیر ملک سے آیا تھا جو دوست وہ پارسل لائے میں نے ان کو کہا کہ اسے ایک طرف رکھ دو۔اس وقت مجھے یہ خیال ہی نہ آیا کہ اتنا بڑا پارسل کہاں سے آ سکتا ہے۔وہ بڑا وزنی پارسل تھا۔نماز کا وقت قریب آ رہا تھا اور مجھے بھوک بھی لگی ہوئی تھی۔میں کام سے اُٹھا اور کھانے کی میز پر چلا گیا اور ابھی میں میز پر بیٹھا ہی تھا کہ مجھے خیال آیا کہ یہ کہیں مکئی کی چھٹی (بھٹہ ) ہی نہ ہو۔جوان لوگوں نے مجھے بھجوائی ہو جو مجھ سے دعائیں کروارہے تھے کیونکہ مجھے وہاں سے اطلاع آ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے فضل کر دیا ہے اور بارشیں ہوگئی ہیں میں تو اس فضل کے دیدار کا بھوکا تھا۔میں نے کھانا چھوڑا اور جا کر وہ پارسل کھولا۔میں نے دیکھا کہ اس پارسل میں ایک چھتی ہے جو اتنی بڑی ہے کہ یہاں بڑی سے بڑی چھلی (بھٹہ ) جو میں نے دیکھی ہے۔وہ اس سے قریباً ڈیڑھ گنا بڑی تھی اور پتہ نہیں اس میں کتنے سو دانے تھے جو ایک دوسرے کے اوپر چڑھے ہوئے تھے۔غرض انسان کی کوششوں میں جو کمی رہ جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحیمیت اس کمی کو پورا کرتی ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے یہ اُسوہ رکھا ہے کہ صحابہ کے اعمال میں جو کمی رہ جاتی تھی اس کو آپ اپنی دعاؤں اور مادی ذرائع سے امداد کے ذریعہ پورا کرتے تھے۔اور اپنی امت کے لئے آپ نے ایسے اصول وضع کئے ہیں کہ مثلاً ایک شخص (میں آج کل اقتصادیات سے متعلق مضمون بیان کر