سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 76
76 سبیل الرشاد جلد دوم میری حکومت اس دنیا پر قائم رہے گی۔جب ہمیں پتہ لگا کہ اس نے اس قسم کے خطوط بعض احمدی دوستوں کو لکھے ہیں۔تو طبعا جس کو پتہ لگتا اس کو یہ فکر ہوتی کہ ایسے پاگلوں کے ساتھ بعض جنونی بھی ہوتے ہیں۔ہم نے خاص طور پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی حفاظت کا بھی انتظام کیا۔ہمیں فکر بھی ہوئی اور وہاں بھی آدمی بھیجے۔تو جھوٹے کی باتیں خدا تعالیٰ بچی نہیں کیا کرتا۔چنانچہ ۱۲ جنوری ۱۹۶۴ء آ یا اور گزر گیا۔ساتھ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ خدا نے مجھے یہ بھی کہا ہے کہ فلاں زمیندار کی لڑکی کے ساتھ میری شادی ہو جائے گی۔ان کو بھی کہا کہ تم بڑے دیوث آدمی ہو۔اس قسم کی پیشگوئیاں یہ کر رہا ہے اور اتنی باتیں اس کی غلط ہوگئی ہیں۔اس لیئے تم اس کی طرف توجہ نہ دینا۔ان کو ہم نے سنبھالنے کی کوشش کی۔تو اس کے بعد یعنی اس قسم کے آدمیوں کے دماغ اس طرح ڈھیٹ ہوتے ہیں کہ دو تین مہینے جب گزرے تو پھر اس قسم کا ایک اور خط لکھا کہ یہ میری اجتہادی غلطی تھی اب مجھے پتہ لگا ہے کہ ۱۲ جنوری ۱۹۶۴ء نہیں بلکہ ۱۲ جنوری ۱۹۶۵ء کو یہ واقعہ ہونا ہے۔پھر ۱۲ / جنوری ۱۹۶۵ء بھی گزر گیا۔اور اس کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے جماعت کو ایک ہاتھ پر جمع کر دیا۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ خلیفہ وقت کا وصال ایک قیامت کا نمونہ ہوتا ہے۔اس قیامت کے وقت اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کی گرمی آسمان کی طرف سے ہماری طرف نازل کی جس نے ہر دل کو گرما دیا اور پھر محض اپنے فضل سے نہ اس لئے کہ مجھ میں کوئی خوبی تھی ، اس نے میرے ہاتھ پر ساری جماعت کو اکٹھا کر دیا۔میرے دل کو بھی بدل دیا ، میرے دماغ کو بھی بدل دیا اور آپ سب کو ایک ہاتھ پر پھر اکٹھا کر دیا۔اب اس نے دیکھا کہ جس شخص کا میں نام لے رہا تھا وہ تو ہوا نہیں۔کوئی اور ہو گیا ہے۔تو اس واسطے اب دو سال جو مرنے کے مقرر کئے ہوئے تھے اس کا انتظار کیا کرنا ابھی اعلان کر دو۔پھر یہ اعلان کر دیا کہ یہ ساری میری اجتہادی غلطیاں تھیں۔جن کے میں نے نام لئے تھے کہ وہ خلیفہ ہوں گے۔وہ میرے ہی صفاتی نام ہیں۔اور میں اب اعلان کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خلیفہ، نبی ، مہدی ، عیسی اور پتہ نہیں اور کیا کچھ بنا دیا ہے اور اب قیامت تک میری حکومت رہے گی۔نہ وہ چیز نہ وہ بات نہ دلوں میں خدا کے تصرف سے وہ محبت ، نہ اس کے دل میں اور نہ دوسروں کے دل میں۔دو چار نادان ہیں جو اس کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔اور وہ ان کے ساتھ اپنی زندگی کے دن گزار رہا ہے۔لیکن دعوی اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہزاروں ، لاکھوں نشانات اس کے ذریعہ دنیا میں ظاہر کئے ہیں۔جو پتہ نہیں کس نے دیکھے۔ہم نے تو نہیں دیکھے۔اور بعض سادہ قسم کے مخلص احمد یوں کو بھی بعض دفعہ اس نے دھوکہ دیا۔ویسے وہ بڑا ہوشیار آدمی ہے۔بھانپ لیتا ہے۔ایک دفعہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سندھ کے دورہ پر گئے۔وہاں کے ایک بڑے مخلص احمدی دوست کو کہنے