سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 75
75 سبیل الرشاد جلد دوم جماعت پر مقدم رکھا جا سکے۔اس جماعت کا پیار وہی حاصل کرے گا جو خدا کے فرمودہ کے مطابق اس کی راہ میں اور جماعت کی خدمت میں عاجزانہ راہوں کو اختیار کرے گا اور اپنے لئے کسی بزرگی کسی بڑائی اور کسی محبت کے حق کا حقدار نہیں سمجھے گا۔جماعت اللہ تعالیٰ کے مخلصوں کی جماعت ہے۔اس دنیا میں جو دنیا میں غرق ہے، اس دنیا میں جسے اپنے مالوں سے اتنی محبت ہے کہ وہ ایک دھیلہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے تیار نہیں۔اس دنیا میں جو دنیا کی عزتوں اور وجاہتوں اور اقتدار کے پیچھے پڑی ہوئی ہے اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو پیدا کیا اور ان لوگوں میں سے نکالا۔اور ان کو اکٹھا کر دیا اور ان کو ایک وجود بنا دیا اور پھر خدا نے کہا کہ میں اپنے مخلصین کے اس گروہ کو جو ایک وجود کا حکم رکھتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وجود کے درخت کی سرسبز شاخیں ہیں۔ان پر اپنی رحمتوں کو بے حد اور بے انتہا نازل کروں گا اور وہ اپنے وعدوں کا سچا ہے اور اپنے وعدوں کو پورا کر رہا ہے۔جب ہم اس کے فضلوں کو آسمان سے نازل ہوتے دیکھتے ہیں، جب ہم اپنی حقیر کوششوں کے نتیجہ میں بہترین نتائج نکلتے دیکھتے ہیں تو ہم میں سے ہر ایک کا دل اپنے رب کی محبت سے لبریز ہو جاتا ہے۔ہمارے دماغ اس وقت یہ نہیں سوچتے کہ کون ان کا حقدار ہے اور کس کی وجہ سے یہ فضل نازل ہوئے ہیں۔جماعت اس کی حقدار اور جماعت کی وجہ سے اور جماعت کی قربانیوں کی قبولیت کے نتیجہ میں یہ فضل نازل ہو رہے ہیں۔کسی شخص کو کسی اور پر بزرگی حاصل نہیں اور نہ اس کو جماعت برداشت کر سکتی ہے۔بہتوں نے بزرگ بننا چاہا تو جماعت سے نکال دیئے گئے یا نکل گئے۔ایک نذیر احمد برق ہی ہیں۔جماعت کے کچھ لوگ انہیں جانتے ہوں گے۔ان کو بھی بڑی خوا میں آنی شروع ہوئیں اور دعوئی ان کا یہ ہے کہ پتہ نہیں کتنے لاکھ سچی خوا ہیں اور کتنے لاکھ قبولیت دعا کے نشان اللہ تعالیٰ نے ان کو دیئے ہیں اور حال ان کا یہ ہے کہ آپ میں سے اگر کوئی شخص ان کو دیکھے تو پہلا رد عمل دل پر یہ ہوگا کہ ان کے متعلق نفرت کے جذبات پیدا ہو جائیں گے۔یعنی خدا تعالیٰ کی تائید حاصل نہیں نا۔وہ اس مخلص جماعت کے دلوں میں اپنی محبت پیدا نہیں کر سکے۔اور ان کی خوابوں کا یہ حال ہے کہ انہوں نے خطوط کے ذریعہ جماعت کے بعض بزرگ دوستوں کو یہ لکھا کہ اللہ تعالیٰ نے لکھنے والے ( نذیر احمد برق ) کو یہ خبر دی ہے کہ ۱۲ / جنوری ۱۹۶۴ء کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ وفات پا جائیں گے۔اور ان کے بعد فلاں شخص خلیفہ مقرر ہوگا۔جو دو سال کے بعد فوت ہو جائے گا۔پھر فلاں شخص خلیفہ ہو گا۔جو اتنے سالوں کے بعد فوت ہو جائے گا۔اس کے بعد خدا تعالیٰ مجھے اس زمانہ کا مجدد اور امتی اور نبی اور مہدی اور عیسی اور پتہ نہیں کیا کچھ بنا کر دنیا کی طرف نازل کرے گا۔اور پھر کئی ہزار سال تک