سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 77
77 سبیل الرشاد جلد دوم لگا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ تمہیں ترقی مل جائے گی۔اس نے سنا تھا کہ اس سال وہاں بڑا اچھا کام ہوا ہے۔اور رپورٹیں اچھی گئی ہیں، اس نے اپنا ایک اندازہ لگا لیا تو جب حضور تشریف لے گئے۔کام دیکھا بڑے خوش ہوئے۔کام بڑا اچھا ہوا تھا اُس سال تو ان کو اور ترقی دے دی۔دیکھا میں کتنا بڑا بزرگ ہوں میں نے تمہیں پہلے بتا دیا تھا اور جو بات پوری نہ ہو، جیسا کہ میں نے بتایا وہ ڈھٹائی سے کہہ دیتا ہے کہ یہ میری اجتہادی غلطی ہے۔جھوٹا ثابت کر کے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ذلیل کرنا چاہتا ہے۔بہر حال شروع میں نذیر احمد برق جماعت سے باہر نہیں گیا۔وہ جماعت میں ہی رہا۔یہاں تک کہ اس کی بد قسمتی سے اُسے جماعت سے خارج کر دیا گیا۔ویسے اس میں بڑی ظاہر داری پائی جاتی ہے۔اس نے ایک دعا پارٹی بنائی ہوئی ہے اور یہ بات مشہور کی گئی تھی کہ اس کی روحانیت کی وجہ سے اس کی مجلس میں بعض لوگوں کو حال پڑ جاتا ہے۔حالانکہ دوست جانتے ہیں کہ حال بعض دفعہ پنجابی عشقیہ نظمیں پڑھنے کی وجہ سے بھی بعض پنجابی جاننے والوں کو بھی پڑ جاتا ہے۔لیکن میں نے بتایا ہے کہ مخلصین جماعت نے اس کی طرف توجہ نہیں کی۔غرض اس جماعت میں خلیفہ وقت کا کوئی علیحدہ وجود نہیں ہے بلکہ خلیفہ وقت اور جماعت ایک ہی وجود ہے اور یہ ایک حقیقت ہے جس پر میرا ایمان بھی ہے اور آپ کا بھی ایمان ہونا چاہئے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرما دیا ہے کہ میرے وجود کے درخت کی سرسبز شاخوتو خلیفہ کا علیحدہ وجود نہ رہا۔جماعت اور خلیفہ ایک ہی درخت یعنی روحانی درخت بن گیا۔کبھی کسی خلیفہ نے اپنی بزرگی دوسروں پر ظاہر نہیں کی۔نہ اس نے کبھی اپنی بزرگی جتائی ہے۔اور نہ کبھی اس کے دل میں اس کا خیال ہی پیدا ہوا ہے۔وہ تو اپنی اس ذمہ داری کے فکر میں ہی ہمیشہ رہتا ہے جو اس پر ڈال دی گئی ہے اور وہ بہت بھاری ذمہ داری ہے۔وہ ہر وقت اس فکر میں رہتا ہے کہ کہیں میں اپنے رب کو ناراض نہ کر دوں۔اس کی ایک طرف دن رات یہ دعائیں ہوتی ہیں کہ اے میرے خدا تو نے میرے جیسے کم مایہ انسان پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے۔اب تو ہی اپنے انتخاب کی لاج رکھے اور اپنی رحمتوں کو نازل کر اور وہ ترقیاں ہمیں عطا کر جن کے وعدے تو نے کئے ہیں اور پھر اتنی کثرت سے اپنی رحمتوں کو ہم سب پر مجھ پر اور آپ پر جو ایک ہی وجود ہیں یعنی احمدیت کا وجود نازل کرتا ہے کہ کوئی ایک شخص ان پر فخر نہیں کر سکتا۔اب تازہ واقعہ میرے یورپ کے سفر کا ہے۔ساری جماعت نے دعائیں کیں۔کوئی آپ میں سے کھڑا ہو جائے اور کہے کہ جتنی کامیابی ہوئی ہے۔وہ صرف میری دعا کے نتیجہ میں ہی ہوئی ہے۔جماعت کیا ہے تو ہم کہیں گے۔پاگل ہو تم۔ساری جماعت کو اللہ تعالیٰ نے ایک وجود بنایا ان کے دلوں میں اپنی محبت پیدا کی۔ان کے دلوں میں یہ جذ بہ پیدا کیا کہ وہ دعائیں کریں پھر اس نے ان کو دعاؤں کی توفیق دی۔اور ان کی