سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 49 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 49

سبیل الرشاد جلد دوم کیونکہ ہر صفت کی ذمہ واری انسان کے اوپر پڑتی ہے۔ہر نیکی اللہ تعالیٰ کی صفت سے مشابہت اختیار کرنے کا نام ہے 49 دراصل جتنے گناہ ہیں وہ کسی نہ کسی صفت کو توڑنے یعنی اس کی ذمہ واری نہ نباہنے یا اس میں کسی قسم کے شرک کرنے سے پیدا ہوتے ہیں اور ہر نیکی جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کی صفت سے مشابہت اختیار کرنے کا نام ہے، اس کے بغیر کوئی نیکی نہیں۔ساری کی ساری نیکیاں جو اسلام بتا تا ہے وہ اس معنی میں نیکیاں ہیں کہ ان کو اختیار کرنے سے تَخَلَّقُ بِاَخْلَاقِ اللہ پیدا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی صفات سے انسان مشابہت اختیار کر لیتا ہے مثلاً بہت ساری نیکیاں ایسی ہیں جن کا رب کے ساتھ تعلق ہے اور بعض کا اس فقرہ کے، رب کی جو شان ہے۔رب العالمین ، ان کے ساتھ تعلق ہے۔مثلاً کسی جاندار کو دکھ نہ پہنچاؤ۔انسان کو نہیں۔اس سے بڑھ کر یہ کہ کسی چیز کی بھی خواہ وہ غیر جاندار ہو اس کی حق تلفی نہ کرو۔بڑا عجیب مذہب ہے اسلام - جاندار ہو یا غیر جاندار اس کے جو حقوق ہیں ان کو تلف نہیں کرنا ایک لقمہ بھی ضائع نہ ہو مثال اس کی یہ ہے ، چھوٹی سی مثال دیتا ہوں کہ جو کھانا گھر میں پکتا ہے۔اسلام کہتا ہے کہ تم پر اس کا حق ہے تم اس حق کو پورا کرو۔اور پور اس طرح کرو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کہ اپنی پلیٹ میں اتنا سالن نہ ڈالو کہ ایک لقمہ بھی بچے ورنہ گنہ گار ہو جاؤ گے۔کیونکہ لقمے کا کھانے کا یہ حق تھا کہ اس کو ضائع نہ کیا جائے۔اللہ تعالیٰ نے یہ حق پیدا کیا ہے کھانے کا۔جو گھر میں پکتا ہے وہ ضائع نہیں ہوگا۔اور اگر آپ اس کو ضائع کرتے ہیں تو حق غیر جاندار کا جس کو آپ نے اپنی ہنڈیا میں گھر میں کئی گھنٹے آگ پر رکھا ہے۔اس کا حق قائم ہے۔اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آجاتے ہیں ، آپ حق تلفی کے نتیجہ میں۔یہ تو چھوٹی سی مثال ہے۔ہر چیز کو آپ لے لیں۔اس کے حقوق اللہ تعالیٰ نے قائم کئے ہیں۔کتنا وسیع ہے یہ مضمون جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر حق کے قیام کے بعد جس کی ادائیگی ہوگی۔وہ رحمت ہے آپ کے لئے۔تو جتنی رحمتوں کے دروازے اسلام نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے نتیجہ میں ایک مسلمان پر کھولے ہیں۔اس کا شاید ہزارواں حصہ بھی ان رحمتوں کے دروازے نہیں کھولے دوسری قوموں پر جو ہم سے پہلے گزری تھیں۔تو قرآن کریم سیکھنا ہے۔اس روشنی میں جو خلافت کی روشنی ہے۔خلافت کی روشنی اور خلیفہ وقت کی روشنی بات یہ ہے کہ ایک ہے خلافت کی روشنی ، ایک ہے خلیفہ وقت کی روشنی۔خلیفہ وقت تو ایک انسان