سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 50
50 سبیل الرشاد جلد دوم ہے اس کی زندگی جو ایک دن ہے یا ایک سال ہے یا دس سال ہے ( جتنا خدا کو علم ہے ) وہ ختم ہو جاتی ہے۔لیکن یہ سمجھنا مثلاً آج کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی خلافت کی روشنی بجھ گئی۔یہ غلط ہے۔یہ ابھی ابھی جو روشنی ہے خلافت کی روشنی مثلاً اس روشنی میں ہمیں یہ بھی نظر آیا تھا کہ جن کے دلوں میں خلافت سے بغض تھا ان کو شرمندہ کر دیا آپ نے۔تو یہ روشنی قیامت تک نہیں مل سکتی۔ویسے تو ان کو لتاڑا ہے۔جو غیر مبائعین بنے ہیں کیونکہ رہتی دنیا تک انسان اس روشنی سے نور حاصل کرتا رہے گا۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ ایک فانی انسان ہونے کی حیثیت میں فنا کا جامہ پہن کر دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن جو نور اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا تھا۔وہ قیامت تک اندھیرے میں نہیں بدل سکتا۔جو نور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے خلافت کے منصب پر قائم کرنے کے بعد دیا تھا۔وہ نور قیامت تک پھیکا نہیں پڑ سکتا۔محو نہیں ہوسکتا وہ تو نور رہنے والا ہے۔اسی طرح یہ خلافت چلتی رہے گی۔ایک کے بعد دوسرا خلیفہ آتا رہے گا۔لیکن خلافت روشنی کو زیادہ روشن کرتی چلی جائے گی۔اس کو اندھیرے میں کوئی تبدیل نہیں کر سکے گا۔قرآن کریم کا نور خلافت سے وابستگی سے ہی حاصل کر سکتے ہیں تو قرآن کریم کا نور خلافت سے وابستگی اور خلافت کے بتائے ہوئے طریقہ کے نتیجہ میں آپ حاصل کر سکتے ہیں۔دوسروں سے بھی حاصل کر سکتے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ ”نہیں حاصل کرتے نہیں حاصل کر سکتے لیکن ان کے پاس سند کوئی نہیں۔سند ایک ہی آدمی کے پاس ہے۔تو خلافت سے وابستگی کا نعرہ لگاتے ہیں۔خدام الاحمدیہ میں بھی ہم اپنا آپ پیش کر رہے ہوتے ہیں۔انصار اللہ میں بھی۔لیکن ہم پر یہ بھی تو فرض ہے کہ نعرے کا بھی کوئی حق ہے۔ہم پر خدا تعالیٰ نے قائم کیا ہوا کہ جس چیز کا نعرہ لگا رہے ہو اس کی حقیقت کو بھی سمجھیں۔محض نعرہ بازی کسی کام نہیں آ سکتی۔تو اس وقت خلاصہ میری ساری تقریر کا یہ ہے کہ باتیں کرنے یا با تیں سننے کے لئے محض آپ کی تنظیم کو قائم نہیں کیا گیا۔آپ کی تنظیم کو۔اے میرے انصار بھائیو! اس لئے قائم کیا گیا تھا کہ آپ نیکی کی باتیں اپنے محدود دائرہ کے اندر اس نیت سے سنیں گے کہ ان پر عمل کر کے آپ وہ روحانی طاقت حاصل کر لیں گے۔جس روحانی طاقت کی آپ کو اس بڑے دائرہ کے اندر ضرورت ہے۔جو احمدیت کا دائرہ ہے اور جس طاقت کے حصول کے بغیر ان ذمہ داریوں کو صحیح طور پر نیا ہنا عقلاً ممکن نہیں۔تو ہر تنظیم کا جو غیر مادی ایک وجود ہے جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہر وجود کے کچھ حقوق ہیں اور کچھ