سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 48
48 سبیل الرشاد جلد دوم پر عمل کرتے ہیں۔جب تک یہ تین باتیں اکٹھی نہیں ہوتیں۔تو قرآن تمہیں فائدہ نہیں دے سکتا ہے۔پس قرآن سے فیوض حاصل کرنے کے لئے ان تین باتوں کو اختیار کرو۔اگر تم ان تین باتوں کو اختیار نہیں کرو گے تو ان ذمہ داریوں کو تم کیسے نبھاؤ گے۔جو انصار اللہ نے تم پر ڈالی ہیں اور جماعت احمدیہ نے تم پر ڈالی ہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ قرآن نے تم پر (ذمہ داریاں) ڈالی ہیں۔قرآن کریم تو بڑی عجیب کتاب ہے۔اس میں جہاں اگر پہلے رحمت کا ایک دروازہ کھولا تھا تو ایک ہزار ایک دروازہ اب کھول دیا ہے، رحمت کا انسان کے سامنے۔مگر ایک ہزار ایک ذمہ داریاں بھی ہمارے کندھوں پر ڈال دی ہیں۔اب ایک مثال دے دیتا ہوں۔اور وہ موازنہ مذاہب کی مثال ہے تا آپ کو پتہ چلے کہ جو کتاب آپ کو دی گئی ہے۔وہ کس قدرشا ندار ہے۔حقوق العباد کس طرح ادا کر نے چاہئیں ہر ایک مذہب جو دنیا کی طرف آیا اس نے یہ دعویٰ کیا کہ میں اس لئے آیا ہوں کہ لوگوں کو بتاؤں کہ حقوق اللہ کیسے ادا کئے جاتے ہیں اور حقوق العباد کس طرح ادا کر نے چاہئیں۔سارے مذاہب اس میں برابر کے شریک ہیں۔اسلام نے بھی یہ دعویٰ کیا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی دعویٰ ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اسلام میں اور پہلے مذاہب میں کیا فرق ہے؟ اس فرق کو ظاہر کرنے کے لئے اور ثابت کرنے کے لئے میں پھر حقوق اللہ کی ادائیگی کا ذکر کروں گا۔اور وہ بھی بڑے اختصار سے۔قرآن کریم نے مؤثر اور قائل کر دینے والے دلائل کے ساتھ ہمیں یہ سمجھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات میں سے ہر صفت اس کے بندے پر بہت سی ذمہ داریاں عائد کرتی ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ کی ذات کی ذمہ واری کا حق جو ہے وہ حقوق اللہ میں سے ہے نہ اس کا حق یہ ہے کہ ہم اس کو واحد لاشریک جانیں اور یہ سمجھیں کہ وہ ہمارا محبوب اور تمام صفات حسنہ سے متصف اور تمام بُری باتوں سے پاک اور منزہ ہے۔ایک ذمہ داری ہے ذات باری کی۔صفات باری میں سے ہر ایک صفت بیسیوں ، سینکڑوں، ہزاروں ذمہ داریاں ہم پر عائد کرتی ہے۔اگر یہ صحیح ہو اور یقینا یہ صحیح ہے تو پھر جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ موسی" اپنی قوم کے سامنے تمیں صفات الہی کو پیش کرتا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے سامنے قریباً ستر سے زائد خدائی صفات کو پیش کرتے ہیں۔جس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں رحمت کے بہت سے زیادہ دروازے کھولے وہاں ذمہ واریاں بھی بہت ڈال دیں