سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 484
14 عہد یداران نظام کے اندر ایک دوسرے کے ساتھ پورا تعاون کریں حضور نے خطبہ جمعہ 25 نومبر 1966ء میں فرمایا۔" یہی حال ہر عہدیدار کا ہونا چاہئے۔اگر آپ خدا کے ان پیارے بندوں کو انتہائی محبت نہیں دے سکتے تو آپ عہد یدار رہنے کے قابل ہی نہیں۔کسی شخص کے دل میں یہ وہم بھی پیدا نہیں ہونا چاہئے کہ کوئی عہد یدار اس سے پیار نہیں کرتا، اس سے ہمدردی نہیں رکھتا، اس کی غمخواری نہیں کرتا۔وقت پر اس کے کام نہیں آئے گا۔ہر عہد یدار کی پہلی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ اپنی تکلیف بھول جائے اور اپنے بھائیوں کی تکلیف کا اسے خیال رہے اگر یہ کیفیت ہو تو پھر وہاں بشاشت کے نہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جہاں عہد یدار ڈھونڈ ڈھونڈ کر یہ کام کریں کہ کسی کو دوائی کی ضرورت ہے وہ دوائی پہنچائی جائے۔کسی کی بیماری کے نتیجہ میں اس کے بعض کام رکے ہوئے ہیں۔وہ کام کر دیئے جائیں کسی کو مالی تکلیف ہے اسے اس تکلیف سے نکالا جائے۔یہ صحیح ہے کہ ہم نے بادشاہتیں نہیں دینی ہیں۔لیکن ہر احمدی کی کم سے کم ضرورت بہر حال ہم نے پوری کرنی ہے۔اس سے وہ اس قدر سیکوریٹی اور اطمینان محسوس کرے گا کہ خود بخود اس کے دل میں بشاشت محسوس ہوگی۔انفرادی طور پر ہی نہیں ( گووہ بھی بہت ضروری ہے) انتظامی لحاظ سے بھی ، ہر نظام کو خواہ وہ بنیادی ہو یا ذیلی ہو یقین ہونا چاہئے کہ دوسرے نظام میرے ساتھ سو فی صدی تعاون کرنے والے اور میرے کاموں کو آگے سے آگے بڑھانے میں میرے مرد اور معاون اور ناصر ہیں۔میرے راستے میں روکیں پیدا کرنے والے نہیں ہیں۔جب ہر نظام اور ہر نظام کے عہدیداروں کے دماغ میں یہ بات آ جائے گی اور یہ ذہنیت سب میں پیدا ہو جائے گی تو ہمارے یہ سارے نظام ایک جست میں ہی کہیں سے کہیں پہنچ جائیں گے۔چھوٹی چھوٹی باتوں میں بعض دفعہ بدظنی پیدا ہو جاتی ہے۔بدظنی تو کسی کے لئے بھی جائز نہیں لیکن عہد یداروں کے لئے تو بڑی ہی مہلک چیز ہے۔جس طرح اگر کوئی کسی کے پیچھے سے السلام علیکم کہے تو آپ کو خود کو اتنا بڑا نہیں سمجھنا چاہئے کہ وہ سلام آپ کو کیا گیا ہے۔اسی طرح اگر کوئی کسی کو پیچھے سے گالی دے رہا ہو اور آپ کے کان تک وہ آواز پہنچے تو آپ کو یہ بھی نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ گالی آپ کو دی جارہی ہے یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔اگر کوئی برا بھلا کہتا ہے تو غلطی کرتا ہے آپ یہی سمجھیں کہ وہ آپ کو نہیں کہہ رہا بلکہ کسی اور کو کہہ رہا ہے۔آپ اپنا کام کئے جائیں اور یاد رکھیں کہ نظام کے اندر ایک دوسرے کے ساتھ پورا تعاون اور اتفاق ہونا چاہئے خدام الاحمدیہ کی طاقت ، انصار اللہ کی طاقت، لجنہ اماءاللہ کی طاقت ، ناصرات الاحمدیہ اور اطفال کی طاقت اس بات میں ہے کہ جو حد و د خلیفہ وقت نے ان کے لئے مقرر کی ہیں وہ ان سے باہر نہ جائیں اور جس