سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 483
13 رہی ہے کہ نہیں۔جس کے نتیجہ میں اللہ تعالی محض اپنی نعمت کے طور پر اور اپنے فضل اور برکت کے نتیجہ میں ان کے درمیان مودت اور اُلفت پیدا کرتا اور انہیں بنیان مرصوص بنادیتا ہے۔اس ذمہ داری کو نباہنے کے لئے خلفاء امت محمدیہ نے مختلف تدابیر اختیار کیں ہمارے زمانہ میں ہمارے سلسلہ میں ایک تدبیر اس کے لئے یہ اختیار کی گئی ہے کہ مختلف نظام قائم کر دئے گئے ہیں۔ایک جماعتی نظام ہے جو سلسلہ کے تمام بنیادی کاموں پر حاوی ہے اور ان کو کما حقہ ادا کرنے کی اس پر ذمہ داری ہے۔ایک تحریک جدید کا نظام ہے جسے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اس لئے جاری کیا تھا کہ غیر ممالک میں اسلام کی اشاعت کی جائے اور توحید کا جھنڈا گاڑا جائے۔ایک وقف جدید کی تنظیم ہے کہ جس کے سپر د اشاعت قرآن اور تربیت سلسلہ کا ایک محدود دائرہ کے اندر کچھ کام کیا گیا ہے۔ان کے علاوہ ذیلی تنظیمیں ہیں۔انصار اللہ ہے۔لجنہ اماءاللہ ہے، خدام الاحمدیہ ہے، ناصرات احمدیہ ہے ، اطفال احمد یہ ہے اور بعض دفعہ وقتی طور پر ہم کچھ کام کرتے ہیں یا ایسی کوئی تدبیر کرتے ہیں کہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ وقتی ہے یا مستقل شکل اختیار کر جائے گی۔مثلاً وقف عارضی کا نظام میں نے جاری کیا ہے اس کے نتائج خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھے نکل رہے ہیں لیکن نہیں کہا جا سکتا کہ یہ تحریک کیا رنگ اختیار کرے گی۔جس رنگ میں اور جس طور پر اللہ تعالیٰ کا منشاء ہوگا اور اس کی ہدایت ہوگی اس کے مطابق ہی وہ شکل اختیار کرلے گی۔لیکن اس وقت ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔بہر حال یہ مختلف تدابیر اور ذرائع ہیں تا جماعت کو اغتصامُ بِحَبْلِ اللہ کے مقام سے ہٹنے نہ دیا جائے اور یہ تمام تنظیمیں خواہ وہ بنیادی ہوں یا ذیلی ہوں خلیفہ وقت کے اعضاء ہیں۔اور ان میں سے کسی کو بھی کمزور نہیں کیا جاسکتا نہ عقلاً نہ شرعاً۔عقل بھی اس کی اجازت نہیں دیتی اور شریعت بھی اس کو برداشت نہیں کرتی کہ وہ ذرائع جو خلیفہ وقت کی طرف سے جاری کئے گئے ہوں ان میں کسی کو کمزور کر دیا جائے اور ہر تنظیم میں سب سے زیادہ طاقت اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنی حدود کے اندر کام کر رہی ہوا گر آپ ایک گز کپڑا لیں اور سواگز جگہ میں اس کو بچھانا چاہیں اور دو آدمی زورلگا کر اسے پھیلائیں تو وہ تارتار ہوجائے گا اور اپنی افادیت کھودے گا۔تو ہر ذیلی تنظیم کا جہاں اپنے حدود کے اندر ہنا ضروری ہے وہاں دوسری تنظیموں کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اس میں کسی قسم کی کمزوری نہ پیدا ہونے دیں۔دراصل کسی تنظیم کا بھی کسی دوسری تنظیم کے ساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔سارے تعلق خلافت کے ذریعہ اوپر سے ہو کر نیچے کی طرف آتے ہیں اور جب خلیفہ وقت سارے کاموں کی نگرانی کر رہا ہے تو جماعت کو یہ خطرہ نہیں ہے" خطبات ناصر جلد اول صفحہ 505-506)