سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 462 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 462

462 سبیل الرشاد جلد دوم بچے کی جو ہمارے ہمسائے میں پیدا ہوتا ہے، ہم نے پرورش کرنی ہے، اس بچے کی جو ہمارے محلے میں پیدا ہوتا ہے یا ہمارے شہر میں پیدا ہوتا ہے ، ہم نے پرورش کرنی ہے اس بچے کی اسلامی رنگ میں جو ہمارے ملک میں یا دوسرے ممالک میں پیدا ہوتا ہے، ہم نے پرورش کرنی ہے اس بچے کی جو جماعت احمدیہ میں پیدا ہوتا ہے اور ہم نے پرورش کرنی ہے۔ربوبیت کی صفت اپنے میں پیدا کرنے کے لئے اس بچے کی جو جماعت احمد یہ میں نہیں بلکہ جماعت احمدیہ سے باہر دنیا کے کسی خطہ کسی جگہ کسی محلے کسی گھر میں پیدا ہوتا ہے۔یہ ہمارا آئیڈیل ہے۔آج ہمارے لئے یہ ممکن نہیں لیکن ہماری جد و جہد اور کوشش ( جو آخر میں بتاؤں گا بات ) وہ یہ ہے جو ہمارے لئے جو مقرر کیا ہے خدا نے کہ کرنی پڑے گی تمہیں ایک دن۔اس کے لئے تیاری کرو۔اس کے لئے صفات حسنہ، پہلے اپنی ذات آتی ہے نا۔تو اس واسطے میں بڑی دیر سے کہہ رہا ہوں اب دہراؤں گا لیکن اس مضمون کا چھوٹا سا حصہ بنا کر جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی صلاحیتوں اور استعدادوں کی کامل نشو ونما کرنا فرض ہے ہر اس شخص کا جو ہم میں پیدا ہو اور ابھی اگر وہ بچہ ہے تو جو ذمہ دار ہیں اس کے اور گارڈین ہیں ان کا یہ فرض ہے۔اس کے بغیر ہم جو ایک وسیع فرض کا میدان ہے اس میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔جب تک ہم اپنے اندر جماعت احمدیہ کے ہر فرد کی نشو ونما کو کمال تک نہیں پہنچاتے ، ہم آگے بڑھ کر دوسروں کے گھروں میں نو را ور حسن لے کے کیسے پہنچ سکتے ہیں۔تضاد نہیں ، خدا تعالیٰ کی صفات میں تضاد نہیں۔قرآن کریم نے سورہ الملک میں دو لفظ استعمال کئے ہیں۔ایک تو یہ کہ تفاوت نہیں۔دوسرے یہ کہ فتور نہیں۔میں نے بتایا کہ یہ جو ہے تفاوت اسی کے معنی ہیں تضاد کے اِخْتَلَفَ، اختلاف ، تضاد اسی کو کہتے ہیں نا ایک چیز اس سے مختلف دوسری چیز۔اور اس کا مثبت پہلو ، اس لفظ کا یہ ہے کہ لَيْسَ فِيْهَا مَا يَخْرُجُ عَنْ مُقْتَضَى الْحِكْمَةِ خدا تعالیٰ جو حکیم خدا ہے، جس کی صفات کے جلووں میں حکمت کاملہ انسان کو نظر آتی ہے اس حکمت کا جو تقاضا ہے خدا تعالیٰ کی صفت کا کوئی جلوہ اس سے باہر نہیں جاتا۔اور فتور کے معنی ہیں کمزوری اور فساد۔یہ دونوں ایسے معنی ہیں جن کے پیچھے قضا د جھلک رہا ہے۔ہمارے اندر ایک توازن پیدا ہونا چاہئے۔میں نے بتایا ہے یہ تضاد منفی حصہ ہے اور توازن، میزان جو ہے وہ اسی چیز کا مثبت حصہ ہے۔تو ازن انسان کی، فرد کی زندگی میں بھی ہے ، کھانے میں بھی ہے، اس کی ورزش میں بھی ہے، اس کی ذہنی نشو ونما میں بھی ہے، اس کی قربانیوں میں بھی ہے۔مثلاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا إِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا کہ اپنے نفس کو بھول کے دین کی خدمت کرنا غلط ہے۔ایک توازن بخاری کتاب الصوم باب حق الاصل في الصوم