سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 461 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 461

سبیل الرشاد جلد دوم 461 ہے۔حکم یہ ہے۔لَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ T یہ میں نواہی میں سے، جو روکنے والی چیزیں ہیں ان میں سے سب سے سخت یہ لے رہا ہوں لَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُونِ اللَّهِ تو ساری نوا ہی جو کہتے ہیں نہ کر ، نہ کر نہ کر ، یہ نہ کر ، یہ نہ کر یہ نہ کر، وہ ساری نوا ہی جو ہیں وہ انسانی زندگی سے گند کو اور ناپاکی کو دور کر نیوالی ہیں۔اس واسطے ہمارے سارے پروگرام ایسے ہونے چاہئیں جو ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی سے نا پا کی کو دور کر نے والے ہوں۔صفات حسنه صفات حسنہ کا رنگ اپنی زندگی پر چڑھاؤ۔خدا تعالیٰ اپنی صفات میں اور محامد میں من کل الوجوہ کامل ہے۔اور قرآن کریم کے سارے اوامر، پہلے میں نواہی کی بات کر رہا تھا۔ہر حکم جو ہے وہ خدا تعالیٰ کی کسی نہ کسی صفت کا رنگ ہمارے اوپر چڑھانے والا ہے۔اگر ہم قرآن کریم کی تعلیم کو کلی طور پر FOLLOW کرنے والے ہوں ،اس کی اتباع کرنے والے ہوں اِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چل کر وحی قرآنی کی اتباع کرنے والے ہوں تو ہماری زندگی ساری کی ساری ایسی ہو جائے جس میں اللہ تعالیٰ کے نور اور اس کی چمک دنیا کو نظر آئے۔ساری صفات کا تو اس وقت ذکر نہیں میں کر سکتا، ایک کا کروں گا۔جس طرح وہاں میں نے کیا تھا کہ لَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ بالكل Extreme پہ یہاں جو وسعت کے لحاظ سے سب سے بڑی ہے۔وہ حکم میں لیتا ہوں وہ امر ہے۔ربوبیت۔اللہ رب ہے۔ہمیں کہا ہے کہ جہاں تک تمہیں خدا طاقت اور استعداد دے اندرونی طور پر بھی یعنی اپنی سوسائٹی میں بھی، اپنے ماحول میں بھی اور ساری دنیا میں بھی ، جہاں بھی مدد کی اور ربوبیت کی ضرورت ہو جہاں تک تمہیں خدا تعالی طاقت دے وہ تمہیں کرنی چا ہے۔ہماری زندگی اپنے وسائل کے لحاظ سے محدود ہے۔میں نے ”ہماری جب کہا ”جماعت احمدیہ کی میری مراد ہے ، جماعت احمدیہ کی زندگی اپنے وسائل کے لحاظ سے محدود ہے لیکن اپنے فرائض کے لحاظ سے غیر محدود ہے۔اس واسطے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا جو رنگ ہمیں نظر آتا ہے وہ محض انسانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ کل کائنات کے متعلق آپ کی رحمت جو ہے وہ جوش مارتی نظر آتی ہے۔ہمارے پروگرام ایسے ہونے چاہئیں جن کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی اس صفت پہ ہو کہ ہم نے پرورش کرنی ہے۔بہتوں کو شاید سمجھ نہ آئے میرے ذہن میں کیا ہے۔ہم نے پرورش کرنی ہے اس بچے کی جو ہمارے گھر میں پیدا ہوتا ہے اسلامی رنگ میں۔ہم نے اسلامی رنگ میں پرورش کرنی ہے اُس سورۃ الانعام آیت ۱۰۹ سوره یونس آیت ۱۶