سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 449
سبیل الرشاد جلد دوم صفائی سے پوری ہو جاتی۔کیونکہ اگر دوسرے صلحاء جو مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں وہ بھی اسی قدر مکالمہ و مخاطبہ الہیہ اور امور غیبیہ سے حصہ پالیتے تو وہ نبی کہلانے کے مستحق ہو جاتے تو اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی میں ایک رخنہ واقع ہو جاتا۔اس لئے خدا تعالیٰ کی مصلحت نے ان بزرگوں کو ، اس نعمت کو پورے طور پر پانے سے روک دیا جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی ہوگا۔66 449 ایسا شخص کون؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق جو نبی نہیں ، امتی نبی ہے۔یہ یاد رکھیں۔آپ نے کہا ہے کہ مجھے کبھی خالی نبی نہ کہا کرو۔امتی نبی کہا کرو جیسا کہ میں نے ابھی بتایا نبی کے معنی امتی نبی کے معنی سے بالکل مختلف ہیں۔اگر ہم نبی کہیں تو نعوذ باللہ یہ کہہ رہے ہوں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تمام روحانی مدارج بغیر اتباع وحی قرآنی کے حاصل کئے۔یہ بات بالکل غلط ہے۔آپ تو بدعات کو مٹا کر خالص اسلام قائم کرنے کے لئے ، ان راہوں کو روشن کرنے کے لئے آئے تھے جن را ہوں پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقوش ہمیں نظر آتے ہیں۔مجدد، امام ، مسیحی ، خلیفہ یہ لفظ ہم استعمال کرتے ہیں۔ان کے متعلق ہر ایک کا ذکر کر کے آپ نے فرمایا ہے کہ میں آخری ہوں۔چنانچہ لیکچر لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: تب سخت لڑائی کے بعد جو ایک رُوحانی لڑائی ہے خدا کے مسیح کو فتح ہوگی اور شیطانی قوتیں ہلاک ہو جائیں گی اور ایک مدت تک خدا کا جلال اور عظمت اور پاکیزگی اور توحید زمین پر پھیلتی جائے گی اور وہ مدت پورا ہزار برس ہے جو سا تواں دن کہلاتا ہے۔بعد اس کے دُنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔سو وہ مسیح میں ہوں۔پھر آپ فرماتے ہیں : قرآن شریف میں بلکہ اکثر پہلی کتابوں میں بھی یہ نوشتہ موجود ہے کہ وہ آخری مُرسل جو آدم کی صورت پر آئے گا اور مسیح کے نام سے پکارا جائے گا۔ضرور ہے کہ وہ چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہو۔جیسا کہ آدم چھٹے دن کے آخر میں پیدا ہوا۔“ پھر آپ لیکچر سیالکوٹ میں فرماتے ہیں : 66 حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۰۶ - ۴۰۷ لیکچر لا ہور روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۷۹ لیکچر لا ہور روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۸۵